(22)۔۔۔۔۔۔حمص يا شام کی کچھ عورتيں اُم المؤمنین حضرت سيدتنا عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بارگاہ ميں حاضر ہوئيں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ان سے پوچھا:''کيا تم وہی ہو جن کی عورتيں حمام ميں جاتی ہيں؟ ميں نے خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :''جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ اپنے کپڑے اتارتی ہے تو وہ اپنے اور اپنے رب عزوجل کے درميان کا پردہ پھاڑ ڈالتی ہے۔''
(جامع الترمذی،ابواب الادب،باب ماجاء فی دخول الحمام، الحدیث:۲۸۰۳،ص۱۹۳۳)
(23)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے کہ ایسا ہی ایک واقعہ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی پیش آیا جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاان سے مخاطب ہوئیں تو ارشاد فرمایا :''(کیا تم وہی عورتیں ہو جو حمام میں جاتی ہو؟) حالانکہ حمام میں حرج ہے؟ میں نے شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :''جو عورت اپنا لباس اپنے گھر کے علاوہ کہیں اُتارتی ہے اللہ عزوجل اس سے اپنی رحمت کا پردہ ہٹادیتا ہے۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث اُم سلمہ،الحدیث:۲۶۶۳۱،ج۱۰،ص۱۹۱)
(24)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ پردہ کئے بغير حمام ميں داخل نہ ہواور جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے وہ اپنی بيوی یا لونڈی کو حمام ميں داخل ہونے کی اجازت نہ دے۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،الحدیث: ۱۴۶۵۷،ج۵،ص۱۰۱)
(25)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سيدتنا عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے حمام کے بارے ميں دریافت کیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''عنقريب ميرے(وصالِ ظاہری کے) بعد حمام ہوں گے اور عورتوں کے لئے حمام ميں کوئی بھلائی نہيں۔'' پھر انہوں نے عرض کی :''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! عورتيں اِزار پہن کر حمام ميں داخل ہوتی ہيں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''نہيں، اگرچہ ازار، قميص اور اوڑھنی اوڑھ کر داخل ہوں اور جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ اپنی اوڑھنی اتارتی ہے وہ اپنے اور رب عزوجل کے درميان کا پردہ کھول دیتی ہے۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۳۲۸۶،ج۲،ص۲۷۹)
(26)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دل کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''عنقریب تم ایسے علاقے فتح کرو گے کہ جن میں ایسے گھر ہوں گے جن کو حمام کہا جاتا ہو گا، میری اُمت پر ان میں داخل ہونا حرام ہے۔''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ تو مرض کو دور کرتے ہیں اور میل کچیل کو صاف کرتے ہیں۔'' تو