Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
420 - 857
رکھتا ہے وہ اپنی بيوی کو حمام نہ لے جائے۔''
 (سنن النسآئی،کتاب الغسل والتیمم،باب الرخصۃ فی دخول الحمام،الحدیث:۴۰۱ص۲۱۱۲)

(جامع الترمذی،کتاب الادب، باب ماجاء فی دخول الحمام،الحدیث:۲۸۰۱،ص۱۹۳۳)
 (16)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''عنقريب تم پر عجم کی زمين کھول دی جائے گی اور تم وہاں ايسے مکانات پاؤ گے جنہيں حمام کہا جاتا ہے، اس ميں مرد بغير اِزار کے داخل نہ ہوں اور مريضہ اور نفاس والی عورتوں کے علاوہ دیگر عورتوں کو اس ميں داخل ہونے سے منع کر دينا۔''
 (سنن ابی داؤد، کتاب الحمام، باب الدخول فی الحمام، الحدیث: ۴۰۱۱،ص۱۵۱۶)
 (17)۔۔۔۔۔۔مروی ہے :''مردوں اور عورتوں کو حمام ميں داخل ہونے سے منع کر ديا گيا تھا پھر مردوں کواِزار باندھ کر داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی اور عورتوں کو نہ دی گئی۔''
 (سنن ابن ماجۃ،ابواب الادب،باب دخول الحمام،الحدیث:۳۷۴۹،ص۲۷۰۰)
 (18)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ميری اُمت کی عورتوں پر حمام ميں داخل ہونا حرام ہے۔''
   (المستدرک،کتاب الادب، باب الحمام حرام علی ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۷۸۵۴،ج۵،ص۴۱۲)
 (19)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے، جو اللہ عزوجل اور قيامت کے دن پر ايمان رکھتا ہے اسے چاہے کہ اچھی بات کہے يا خاموش رہے اورتمہاری جو عورتيں اللہ عزوجل اورآخرت پر ايمان رکھتی ہيں وہ حمام ميں ہرگز داخل نہ ہوں۔''     اور یہ بات درست ہے کہ حضرت سيدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس روايت کی بناء پر عورتوں کو حمام ميں داخل ہونے سے روک ديا تھا۔
 (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب الحث علی اکرام الجار۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۷۳،ص۶۸۸)

             (المستدرک،کتاب الادب،باب من کان یومن باللہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۸۵۳،ج۵،ص۴۱۱)
 (20)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اس گھر سے بچتے رہو جسے حمام کہا جاتا ہے۔'' صحابہ کرام عليہم الرضوان نے عرض کی :''حمام ميں نہانا تو مَيل کو دور کرتا اور مريض کو نفع ديتا ہے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''پھر جو ا س ميں داخل ہو وہ پردہ کرليا کرے۔''
 (السنن الکبرٰی للبیہقی،کتاب القسم والنشور،باب ماجاء فی دخول الحمام،الحدیث: ۱۴۸۰۵،ج۷،ص۵۰۴،بدون ''المریض'')
 (21)۔۔۔۔۔۔ امام طبرانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس روایت کی ابتداء میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے :''سب سے بدترين گھر حمام
Flag Counter