(سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ،باب کراہیۃ الکلام۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۵،ص۱۲۲۳)
(3)۔۔۔۔۔۔ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''دو افراد پاخانہ کے لئے اس طرح مت جائیں کہ وہ دونوں اپنے ستر کھولے ہوئے بیٹھ کر باتیں کرتے ہوں کیونکہ اللہ عزوجل اس بات کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث: ۱۲۶۴،ج۱،ص۳۴۸)
(4)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار،بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب دو مرد قضائے حاجت کرنے لگيں تو ايک دوسرے سے چھپ جائيں۔''
(تاریخ بغداد،باب العین، حرف الیاء من آباء العین، الرقم : ۶۵۷۴،ج۱۲،ص۱۲۲)
(5)۔۔۔۔۔۔ رحمت عالم ،نورمجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اپنی بيوی ياکنيز کے علاوہ دوسروں سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔'' عرض کی گئی :''جب قوم آپس ميں مل کر بيٹھی ہو تو کيا کريں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اگر تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ ديکھ سکے تو کوئی نہ ديکھے۔'' عرض کی گئی: ''اگر ہم ميں سے کوئی تنہا ہو تو کيا کرے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اللہ عزوجل اس بات کا زيادہ حقدار ہے کہ لوگوں سے زيادہ اُس سے حيا کی جائے۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الحمام، باب فی التعری،الحدیث:۴۰۱۷،ص۱۵۱۷)
(6)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''بے شک اللہ عزوجل حياء والا اور مخفی ہے، حيا ء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم ميں سے کوئی غسل کرنے لگے تو پردہ کرليا کرے۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب الحمام، باب النھی عن التعری،الحدیث:۴۰۱۷۲،ص۱۵۱۶)
(7)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا جبار بن صخر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''ہميں اس بات سے منع کيا گيا ہے کہ ہماری شرمگاہيں نظر آئيں۔''
(المستدرک،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضوان اللہ،باب مناقب جبار بن صخر رضی اللہ عنہ ، الحدیث: ۵۰۳۷،ج۴، ص۲۳۸)