| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
اسی وجہ سے بعض لغویوں نے اسے فساد ڈالنے کی کوشش سے تعبیر کیا ہے، جبکہ بعض نے حیلہ کے ذریعے غیر کو اپنے مقصد سے پھیر دینے سے تعبیر کیا اور یہ آخرالذکرمعنی کبھی قابلِ تعریف ہوتا ہے جیسے برائی سے ہٹا کر خیر کی طرف پھیر دینا اور اللہ عزوجل کایہ فرمان وَاللہُ خَیْرُالْمَاکِرِیْنَ اسی معنی پر محمول ہے اور کبھی یہ تعبیر مذموم ہوتی ہے، جیسے کسی کو خیر سے ہٹا کر شر کی طرف پھیر دینا اور اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان میں اسی معنی کاذکرہے:
وَ لَا یَحِیۡقُ الْمَکْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَہۡلِہٖ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اوربُر اداؤ (فریب )اپنے چلنے والے ہی پرپڑتا ہے۔(پ22، فاطر:43)
کبیرہ نمبر40: اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا
اللہ عزوجل کی رحمت سے ناامید ہونا بھی گناہ کبیرہ ہے۔چنانچہ، (۱) اللہ عزوجل ارشادفرماتاہے:
اِنَّہ، لَایَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللہِ اِلَّاالْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ 0
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگرکافرلوگ۔(پ۱۳، یوسف:۸۷)
(2) اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفرکیا جائے اورکفرسے نیچے جوکچھ ہے جسے چاہے معا ف فرمادیتاہے۔ (پ5، النساء:48)
(3) قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿53﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤاے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پرزیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوبے شک اللہ سب گناہ بخش دیتاہے۔(پ24، الزمر:53)
(4) وَ رَحْمَتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اورمیری رحمت ہرچیز کوگھیرے ہے۔(پ9، الاعراف:156)