Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
287 - 857
میں سے اکثر وہ ہیں جن کو سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے کبیرہ گناہ شمار کیا ہے، حالانکہ وہ ان کو کبیرہ شمار کرنے میں منفرد نہیں بلکہ کئی دوسرے علماء وائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو کبیرہ ہی شمار کیا ہے، لہٰذا اپنے دل اور باطن کو ان کبائر کی خباثت سے محفوظ رکھیں کیونکہ یہ نہ صرف آپ کے باطن بلکہ ظاہر کو بھی فساد میں مبتلا کردیں گے۔
تنبیہ 3:
    گذشتہ تمام کبیرہ گناہوں کا ارتکاب بدخلقی کا باعث بنتا ہے جبکہ ان سے کنارہ کَش ہونے سے انسان حسنِ اخلاق کا پیکر بن جاتا ہے، پھر یہی حسن اخلاق اس کو کمالِ حکمت سے عقلی قوت کے اعتدال اور شہوانی اور غضب کی قوت کی عذرخواہی تک لے جانے کے ساتھ ساتھ عقلی طور پر شریعت کے عطا کردہ اَحکامات کی بجاآوری تک لے جاتا ہے، اس اعتدال کا حصول یا تو اللہ عزوجل کے خاص کرم اور فطری کمال سے ہوتا ہے یا پھر مجاہدہ اور ریاضت جیسے اسباب کو اپنانے سے ہوتا ہے، مثلا ً

(۱)وہ اپنے نفس کو ہر اس کام پر مجبور کرے جس کے کرنے کا تقاضا حسنِ اخلاق کرے، 

(۲)ہر برائی کی مخالفت کرے کیونکہ وہ نہ تو اللہ عزوجل کی محبت کا باعث بن سکتی ہے اور نہ ہی اس وقت تک اللہ عزوجل کے ذکر کی حلاوت حاصل ہو سکتی ہے جب تک کہ اس بری عادت سے چھٹکارا حاصل نہ کر لیا جائے، 

(۳)شہوانی خواہشات سے نفس کو خلوت اور عزلت نشینی سے بچایا جائے تا کہ سننے اور دیکھنے کی صلاحیتیں اپنی پسندیدہ اشیاء سے محفوظ رہ سکیں، 

(۴)اس کے بعد اسی خلوت نشینی میں دائمی ذکر ودعا کو اپنا معمول بنا لیا جائے یہاں تک کہ انسان پر اللہ عزوجل اور اس کے ذکر کی محبت غالب آجائے، 

    جب انسان مذکورہ تمام اسباب مہیا کر لے تو بالآخر وہ اس اعتدال کی نعمت کو پانے میں کامیاب ہو جائے گا اگرچہ ابتدا میں اس پر یہ سب کچھ کرنا گِراں گزرے گا، بعض اوقات مجاہدات کوکرنے والا شخص یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ شاید اس نے ان چھوٹے چھوٹے مجاہدات سے اپنے نفس کو مہذب اور حسنِ اخلاق کا پیکر بنا لیا ہے حالانکہ ابھی کہاں اس مرتبہ کا حصول ممکن ہو گیا، ابھی نہ تو اس میں کاملین کی صفات پائی جاتی ہیں اور نہ ہی اس نے سچے مؤمنین کے اخلاق اپنائے ہیں جیسا کہ 

(۱) ان اوصاف کا تذکرہ اللہ عزوجل نے اپنی لاریب کتاب میں کچھ اس طرح کیا ہے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوۡبُہُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیۡمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ
ترجمۂ کنزالایمان:ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں
Flag Counter