Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
285 - 857
علماوصلحاء کو بھی ہلاکت میں ڈال دیتی ہیں، عوام توپھر عوام ہیں کیونکہ لوگوں پر طعن وتشنیع میں مشغول ہونا اور ان کے طبعی نقائص کا ذکر کرنا ایسی چیزیں ہیں کہ شیطان جب بندے کو یہ خیال دلاتا ہے کہ یہی حقیقت ہے تو وہ مزید پیش رفت کرتا ہے اور اپنی کوشش میں اضافہ کر دیتا ہے اور پھر یہ گمان کرتے ہوئے خوش ہوتا ہے کہ وہ دین کے لئے کوشش کر رہا ہے حالانکہ وہ شیطان کی پیروی میں ہوتا ہے، دینی غيرت رکھنے والے صحابہ کرام علیہم الرضوان اور ان کے بعد والوں کی پیروی میں نہیں ہوتا، اگر وہ اپنی اصلاح کی جانب توجہ دیتا اور دینی حميت وغيرت رکھنے والوں کی پیروی کرتا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوتا، اورہر وہ شخص جو حاکمِ اسلام سے تعصب رکھے اس کی مخالفت کرے اور اس کے قواعد وضوابط پر نہ چلے تو وہ حاکم اس سے جھگڑے گااور اُسے کولعن طعن کریگا۔

(103)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی لختِ جگر حضرت سیدتنافاطمہ بتول رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے ارشاد فرمایا:''عمل کرو کیونکہ میں اللہ عزوجل کے مقابلے میں تمہیں کوئی فائدہ نہ دوں گا۔''
 (صحیح البخاری،کتاب الوصایا، باب ہل یدخل النساء۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۷۵۳،ص۲۲۱)
    لہٰذاتم پربھی اپنے ظاہروباطن کی اصلاح لازم ہے اور دوسروں کا صرف اتنا ہی خیال کرو جتنا شریعتِ مطہرہ نے تمہیں پابندبنایا ہے جیسے شرائط پائی جانے کی صورت میں نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا وغیرہ۔
عوام الناس کو ان کی سمجھ سے بالاتر باتیں بتانا:
    عوام الناس اور علوم میں مہارت نہ رکھنے والوں کواللہ عزوجل کی ذات وصفات اور ایسے اُمورمیں تفکر کرنے پر ابھارنا جن تک ان کی عقلوں کی رسائی نہ ہو، ان کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ اس طرح وہ دین کے بنیادی اصولوں میں شک کرنے لگیں گے اور بعض اوقات اللہ عزوجل کے بارے میں ایسی باتیں خیال کرنے لگیں گے جن سے وہ کافریابدعتی ہو جائیں گے اور اپنی حماقت کے غلبہ اور قلتِ عقل کی بنا پر اس پرخوش ہوں گے، لوگوں میں سب سے احمق شخص وہی ہوتا ہے جواپنے اس اعتقاد پر زیادہ قوی ہو اور ان میں سب سے عقل مندوہ ہے جو اپنی ذات ، اپنے آپ اور اپنے گمان کو زیادہ ناقص سمجھے اور باعمل علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اور ہدایت یافتہ ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے میں زیادہ حریص ہو۔
مسلمانوں پربدگمانی :
    مسلمانوں پربدگمانی کے بارے میں اللہ عزوجل کا ارشادِگرامی ہے کہ،
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والوبہت گمانوں سے بچو۔(پ26،الحجرات:12)
Flag Counter