Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
251 - 857
صفت کمال ہے اور اس کی نسبت کے اللہ عزوجل کی طرف ہونے سے آنکھیں بند کرلے تو یہی خودپسندی میں مبتلا ہونا، اس نعمت کو بڑا سمجھنا اور اس کی اللہ عزوجل کی طرف نسبت کو بھول جانا ہے۔ اب اگر اس کے اس اعتقاد کی بنا پر کہ اس کا اللہ عزوجل کے ہاں کچھ حق ہے، اس کی توقعات کو بھی اس کے ساتھ ملا دیا جائے تو اب وہ بندہ نازوادا اور نخرے کے مقام پر کھڑا ہو گا جو کہ عجب سے بھی خاص ہے۔
تنبیہ 5:
    عجب اور کِبْر کے گذشتہ فرق سے معلوم ہوا کہ کِبْر کبھی با طنی ہوتاہے جو کہ نفس میں پیدا ہونے والی کیفیت کا نام ہے اس کیفیت کوکِبْرکا نام دینا زیادہ مناسب ہے، اور کبھی ظاہری ہوتا ہے جوکہ اعضا سے صادر ہونے والے اعمال کا نام ہے اور یہ اعمال نفس میں پیدا شدہ اسی کیفیت کے نتائج ہوتے ہیں کہ جن کے ظہور کے وقت اس کیفیت کو تکبر کہا جاتاہے اور ان نتائج کی عدم موجودگی کی صورت میں اسے کِبْر کہا جاتاہے، لہٰذا اصل وہی نفس میں پیدا ہونے والی کیفیت ہے جو خود کو کسی سے برترسمجھنے سے تسکین پاتی ہے اور یہ کیفیت دو چیزوں کا تقاضا کرتی ہے (۱)جس پر تکبرکیا جائے (۲) جس کی وجہ سے تکبر کیا جائے۔ اسی سے تکبر اور خودپسندی میں فرق واضح ہو جاتا ہے کیونکہ عجب میں یہ دونوں چیزیں ضرورت کی نہیں ہوتیں یہاں تک کہ اگر کسی انسان کے بارے میں فرض کر لیا جائے کہ وہ ساری زندگی تنہا رہا ہو تو یہ تو ممکن ہے کہ وہ خودپسندی میں مبتلا ہو جائے مگر وہ تکبر نہیں کر سکتا کیونکہ فقط کسی شے کو بڑا سمجھنا تکبر کا سبب نہیں ہو سکتا جب تک کہ دوسرا کوئی شخص موجود نہ ہو۔
تنبیہ 6:             خودپسندی کا علاج
    عجب یعنی خودپسندی کا علاج بھی نہایت ضروری ہے اور کلیہ یہ ہے کہ مرض کا علاج ہمیشہ اس کی ضد سے ہوتاہے جبکہ خودپسندی کی ضد جہل محض ہے، جیسا کہ اس کی بیان کردہ تعریف سے ظاہر ہے اور اس کی شفایہ ہے کہ ایسی بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ جس کا کوئی انکارنہ کر سکے اور وہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے تیرے لئے علم وعمل وغیرہ مقدر کردیئے ہیں اور وہی تجھے توفیق کی نعمتیں عطا فرماتا، اور تجھے نسب ومال اور جاہ وحشمت والا بناتا ہے، لہٰذا جو چیز نہ اللہ عزوجل کے لئے ہو نہ ہی اللہ عزوجل کی طرف سے ہو اس پر انسان کیسے عجب کر سکتا ہے جبکہ اس کا محل ہونا اسے کوئی فائد ہ نہیں دے سکتا کیوں کہ محل کے ایجاد اور تحصیل میں کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ اس کے سبب ہونے پر نظر کرنا تفکر کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ جب وہ غور و فکر کریگا کہ اسباب میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی بلکہ تاثیر تو اسباب پیدا کرنے والے اوران کے ذریعے بندوں پر انعام فرمانے والے مؤثر حقیقی اللہ عزوجل کے لئے ہے، لہٰذا بندے کو چاہے کہ وہ صرف ایسی خوبی پر خودپسندی میں مبتلا ہو جو اس نے نہ کسی کو پہلے عطا فرمائی اور نہ ہی اس شخص کے
Flag Counter