ایک اورروایت میں ہے :'' دنیا میں تکبر کرنے والے آخرت میں بھی متکبر ہی شمار ہوں گے۔''
(178)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' جس کے سامنے کسی مؤمن کو ذلیل کیا جائے اور وہ مدد پر قدرت کے باوجود اس کی مدد نہ کرے تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے ذلیل کریگا۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،مسند المکیین، الحدیث:۱۵۹۸۵،ج۵،ص۴۱۲،''الاشھادۃ''بدلہ ''الاخلائق'')
(179)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا: ''میرے جلال کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے کہاں ہیں؟ آج کے دن میں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گاجبکہ میرے عرش کے علاوہ کوئی سایہ نہیں۔''
(صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ ، باب فضل الحب فی اللہ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۵۴۸،ص۱۱۲۷)
(180)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہيں کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:''میرے جلال کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کے لئے قیامت کے دن نور کے ایسے منبر ہوں گے کہ انبیاء( علیہم الصلوٰۃ والسلام) اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے(یعنی ان سے خوش ہوں گے)۔''
(جامع الترمذی، ابواب الزھد ، باب ماجاء فی الحب فی اللہ ، الحدیث:۲۳۹۰،ص۱۸۹۲)
(181)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہيں کہ اللہ عزوجل نے ارشادفرمایا: ''وہی لوگ میری محبت کے حق دار ہیں جومیرے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ، میری خاطر ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے، میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے اور میری راہ میں خرچ کرتے ہيں ۔''
(المؤطاللامام مالک، کتاب الشعر،باب ماجاء فی المتحابین۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۸۲۸،ج۲،ص۴۳۹)
(182)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،مسندالانصار،الحدیث: ۲۱۵۷۰،ج۸،ص۱۲۱،''الرجل۔احدکم''بدلہ''اخاہ۔صاحبہ'')