| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
حسد کی حقیقت اور اس کے احکام جان لینے کے بعد اب اس کے مراتب بیان کئے جاتے ہیں۔
حسد کے چار مراتب ہیں:
(۱) کسی کی نعمت کے زوال کی اس طرح تمنا کرنا کہ خود کو اس نعمت کے حصول کی خواہش نہ ہو یہ حسد کاانتہا ئی درجہ ہے (۲۔۳) غیر کی نعمت کے زوال کے ساتھ ساتھ بعینہٖ اسی نعمت یااس جیسی دوسری نعمت کے حصول کی تمنا کرنا، اگر محسود(یعنی جس سے حسد ہوا س) کی نعمت یااس جیسی نعمت حاسد کو حاصل نہ ہو تو محض اس سے نعمت کے زوال کی تمنا اس لئے کرنا کہ وہ اس سے ممتاز نہ ہوسکے اور (۴)غیر سے نعمت کے زائل ہونے کی خواہش تو نہ ہو مگر آدمی یہ پسند کرے کہ وہ اس سے ممتا ز بھی نہ ہو۔ یہ آخری صورت اگر دنیا کے بارے میں ہوتو حسدکی معاف شدہ صورت ہے اور اگر دین کے معاملہ میں ہوتو مطلوب ہے۔تنبیہ 9:
بلا شبہ حسد دل کے بڑے امراض میں سے ہے اور چونکہ دل کی باطنی بیماریوں کا علاج علم ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے لہٰذا حسد کے مرض کے لئے نفع بخش علم یہ ہے کہ تم یہ بات جان لو کہ حسد تمہارے دین اور دنیا دونوں کے لئے نقصان دہ ہے جبکہ محسود کے دین ودنیا کے لئے ہرگز مضر نہیں، کیونکہ حسد سے کبھی کوئی نعمت زائل نہیں ہوئی، ورنہ تو اللہ عزوجل کی کسی پر کوئی نعمت باقی ہی نہ رہتی یہاں تک کہ کسی کے پاس ایمان کی دولت بھی باقی نہ رہتی، کیونکہ کفار کی تو ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ کسی بھی طرح اہلِ ایمان سے ایمان کی دولت چِھن جائے، البتہ محسود کو دینی اعتبار سے تمہارے حسد کی وجہ سے فائدہ ضرور ہوتا ہے کیونکہ وہ تمہاری جانب سے مظلوم ہوتا ہے خصوصاً جب تم غیبت اور اس کی بے عزتی یاکسی اور ذریعے سے اس کو تکلیف پہنچا کر اپنے حسد کو ظاہر کرتے ہو تو ایسی صورت میں تم خود اپنی جانب سے اس کی خدمت میں اپنی نیکیوں کو بطور تحفہ وہدیہ پیش کر رہے ہوتے ہو حتی کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حالت میں ملاقات کروگے کہ تم اس شخص کی طرح مفلس ہو گے جو اس وقت بھی ان نعمتوں سے اسی طرح محروم ہو گا کہ جس طرح دنیا میں محروم تھا، اورتم جس شخص سے حسد کرتے رہے وہ تمہارے دکھ درد وغیرہ سے بے پرواہ اور محفوظ ہو گا، لہٰذا جب تمہاری بصیرت کا پردہ اور دل کا زنگ چھٹ چکا ہے اور تم نے اس بارے میں غورو فکر بھی کر لیا ہے نیزتم خود اپنی جان کے دشمن بھی نہیں اور نہ ہی اپنے دشمن کے دوست ہو توپھرایک عظیم خطرے میں مبتلا ہو جانے کے ڈرسے اس موذی حسد سے منہ پھیر لو، اور وہ خطرہ یہ ہے کہ کہیں تم اللہ عزوجل کے فیصلے پر ناراض ہوکر اس کی تقسیم اور عدل کو ناپسند کرو جو کہ گناہ ہے یعنی ایسا گناہ