رشک اور مقابلہ بازی کے احکام
دوسری صورت یعنی رشک اور مقابلہ بازی حرام نہیں بلکہ یہ کبھی واجب ہوتا ہے تو کبھی مستحب اور کبھی مباح۔ چنانچہ،
اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:
سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ
ترجمۂ کنز الایمان:بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش کی طرف۔(پ27، الحدید:21)
مسابقت یعنی مقابلہ بازی کسی چیز سے محروم رہ جانے کے خوف کا تقاضا کرتی ہے جیسے دو غلام اپنے آقا کی خدمت میں ایک دوسرے سے اس لئے سبقت لے جانا چاہیں تا کہ اس کے منظورِ نظر ہو جائیں،اور یہ دینی امورِواجبہ میں واجب ہے جیسے ایمان، فرض نماز اور زکوٰۃ کی نعمت پر رشک کرنا لہٰذا ان اُمور کو ادا کرنے والے کی طرح ہونے کو پسند کرنا واجب ہے ورنہ تم گناہ پر راضی ہونے والے بن جاؤ گے جو کہ حرام ہے، جبکہ فضیلت کے کاموں میں رشک کرنا مستحب ہے جیسے علم یا نیک کاموں میں مال خرچ کرنے پر رشک کرنا، جبکہ مباح نعمتوں پر رشک کرنا بھی مباح ہے جیسے نکاح وغیرہ پررشک کرنا، البتہ مباح اُمور(یعنی جائز کاموں ) میں مقابلہ بازی فضائل میں کمی کر دیتی ہے ، نیز یہ زہد، رضا اور توکل کے بھی منافی ہے اور ایسے کاموں میں مقابلہ کرنا گناہ میں مبتلاہوئے بغیربھی مقاماتِ رفیعہ سے روک دیتا ہے۔
البتہ! یہاں ایک باریک و دقیق نکتہ کی بات سے آگاہ ہونا ضروری ہے تا کہ انسان بے خبری میں حسد کے حرام فعل میں مبتلانہ ہو جائے، اور وہ یہ ہے کہ جو انسان غیر جیسی نعمت کے حصول سے مایوس ہو جاتا ہے تو وہ خود کو اس نعمت کے حامل شخص سے کم ترو ناقص سمجھنے لگتا ہے، نیز اس کا نفس یہ پسند کرنے لگتا ہے کہ اس کا نقص کسی طریقہ سے دور ہو جائے اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب وہ اس نعمت کے حصول میں کامیاب ہو کر یا پھراس نعمت کے حامل شخص کی نعمت کے زائل ہو جانے کے سبب اس کے ہم پلہ و برابر