| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(60)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کسی طالب شہرت ، ریاکار، اور لہوولعب میں پڑے رہنے والے کا کوئی عمل قبول نہيں فرماتا۔''
(حلیۃ الاولیاء،الربیع بن حثیم ، الحدیث:۱۷۳۲،ج۲،ص۱۳۹)
(61)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب قیامت کا دن آئے گا تو ایک منادی جمع ہونے والوں کو ندا دے گاکہ لوگوں کو پوجنے والے کہاں ہیں؟ کھڑے ہوجاؤ اور جن کے لئے تم عمل کرتے تھے ان سے جا کر اپنا اَجر وصول کرو کیونکہ میں ایسا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جس میں دنیا یا اس کے کسی فرد کا دخل ہو۔''
(جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:۲۴۷۶،ج۱،ص۳۶۱)
ریاکار کے چار نام:
(62)۔۔۔۔۔۔''ایک شخص نے دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی :''کل بروزِ قیامت کونسی چیز نجات دلائے گی؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اللہ عزوجل کے ساتھ بددیانتی نہ کرنا۔'' تو اس نے پھر عرض کی :''بندہ اللہ عزوجل کے ساتھ بددیانتی کیسے کر سکتا ہے؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اس طرح کہ تم کوئی ایسا کام کرو جس کا حکم تمہیں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دیا ہو لیکن تمہارا مقصود غیراللہ کی رضا کا حصول ہو،لہٰذا ریاکاری سے بچتے رہو کیونکہ یہ اللہ عزوجل کے ساتھ شرک ہے اور قیامت کے دن ریاکار کو لوگوں کے سامنے چار ناموں سے پکارا جائے گا یعنی ''اے بدکار! اے دھوکے باز! اے کافر! اے خسارہ پانے والے! تیرا عمل خراب ہوا اور تیرا اجر برباد ہوا، لہٰذا آج تیرے لئے کوئی حصہ نہیں، اے دھوکا دینے کی کوشش کرنے والے! اب تُو اپنا اجر اس کے پاس جا کر تلاش کر جس کے لئے تو عمل کیا کرتا تھا۔''
(اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الجاہ الریاء، باب بیان ذم الریاء، ج ۱۰، ص ۷۱، ۷۵،مختصراً)
ریاکاری کی مذمت پر اِجماعِ اُمَّت
ان تمام نصوصِ قطعیہ اور احادیثِ صحیحہ کو جان لینے کے بعد ریاکاری کی حرمت پراجماع کامعاملہ تو بالکل ظاہر ہو گیا اسی لئے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اقوال اس کی مذمت میں متفق اور اُمت مرحومہ کا اس کی حرمت اور اس گناہ کے بڑے ہونے پر اِجماع ہے۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو اپنی گردن جھکائے پایا تو اس سے ارشاد فرمایا: ''اے گردن نیچی رکھنے والے! اپنی گردن بلند کرلے کیونکہ خشوع گردنوں میں نہیں دل میں ہوتا ہے۔''
حضرت سیدنا ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد میں ایک شخص کوسجدہ میں روتے ہوئے پایا تواس سے ارشاد فرمایا :''کاش!