وصول کرنے کے لئے عورت کے پاس کافی روپیہ چاہيے اور بہت دفعہ ایسا ہو ا کہ مقدمہ چلا۔ شوہر نے ادائے مہر کے جھوٹے گواہ کھڑے کر دیئے کہ میں نے مہر دے دیا ہے یا اس نے معاف کر دیا ہے اس کی بھی مثالیں موجود ہیں اگر کوئی مکان وغیرہ نام کر الیا تو بھی بیکار کیونکہ جب مرد عورت سے آنکھ پھیر لیتا ہے تو پھر مکان یا تھوڑی زمین کی پرواہ نہیں کرتا اگر وہ مکان چھوڑ بیٹھے تو کیا عورت مکان چاٹے گی۔ ایسے ہی اگر شو ہر سے کچھ ما ہوار تنخواہ لکھوالی تو اولا تو وصول کرنا مشکل، اگر شو ہر غائب ہوگیا یا وہ غریب آدمی ہے تو کس طر ح ادا کرے اور اگر تنخواہ ملتی بھی رہی تو جوانی کی عمر کیوں کر گزارے۔ دوستو ! یہ سارے علاج غلط ہیں۔ اس کا صرف ایک علاج ہے وہ یہ کہ نکاح کے وقت کابین نامہ شوہر سے لکھوالیا جائے۔ کابین نامہ یہ ہے کہ ایک تحریر لکھی جائے جس میں شوہر کی طر ف سے لکھا ہو کہ اگر میں لاپتہ ہوجاؤں یا اس بیوی کی موجودگی میں دوسرا نکاح کر کے اس پر ظلم کرو ں یا اس کے حقوق شرعی ادا نہ کرو ں وغیرہ وغیرہ تو اس عورت کو طلاق بائنہ لینے کا حق ہے لیکن یہ تحریر نکاح کے ایجاب وقبول کے بعد کرائی جائے یا نکاح خواں قاضی ایجاب تو مرد کی طر ف سے کرے اور عورت اس شرط پر قبول کرے کہ مجھ کو فلاں فلاں صورت میں طلاق لینے کا حق ہوگا او رمختار پھر ان شاء اللہ عزوجل! شوہر کسی قسم کی بدسلوکی نہ کر سکے گا اور اگر کرے تو عورت خود طلاق لے کر مرد سے آزاد ہوسکے۔