| اسلامی زندگی |
کرکے اپنی کٹوری رکھ دیتا ہے جس میں ہر شخص ایک ایک، دودو یا چار آنہ، آٹھ آنے ڈالتا ہے۔ سب مل کر غرباء کے یہاں تو پندرہ بیس روپیہ ہوجاتے ہیں مگر امیروں کے گھر سو، دوسو، ڈھائی سو روپیہ بنتا ہے پھر بچہ کے والِد کی طرف سے برادری کی روٹی ہوتی ہے اور بچّہ کے والد اپنی بہنوں بہنوئی و دیگر اہلِ قرابت کو کپڑوں کے جوڑے دیتا ہے، ادھر بچے کے نانا، ماموں کی طرف سے نقدی، روپیہ کپڑوں کے جوڑے لانا ضَروری ہوتا ہے۔ا ہلِ قرابت جو نائی کی کٹوری میں پیسے روپے ڈالتے ہیں وہ ''نیوتا''کہلاتا ہے، یہ در حقیقت بچّے کے والد پر قرض کی طرح ہوتا ہے کہ جب ان لوگوں کے گھر ختنہ ہوتو یہ بھی اس کے گھر نقدی دے۔
ان رسموں کی خرابیاں :
چھَٹی کرنا خالِص ہندوؤں کی رسم ہے جو انہوں نے عقیقہ کے مقابلے میں ایجاد کی ہے۔ پہلے عرض کرچکے ہیں کہ عورتوں کا گانا بجانا حرام ہے اسی طرح زچہ کو تارے دکھانا محض لغویات ہے پھر گانے والیوں کو میٹھے چاول کھلاناحرام کام کا بدلہ ہے لہٰذا یہ چھٹی کی رسم بالکل بندکردینا ضَروری ہے عقیقہ اور ختنہ میں اس قدر خرچہ کرانے کا یہ اثر پڑے گا کہ لوگ خرچ کے خوف سے یہ سنّت ہی چھوڑدیں گے، عقیقہ اور ختنہ کرنا سنّت ہے اور سنّت عبادت ہے، عبادت کو اسی طرح(کیا جائے جس طرح ) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے ثابت ہے۔ اپنی طرف سے اس میں رسمیں داخِل کرنا لغو(یعنی بے کار) ہے۔نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا عبادت ہے اب اگر کوئی شخص نماز کو گاتا بجاتا ہوا جائے اور زکوٰۃ دیتے وقت برادری کی روٹی کو ضروری سمجھے تو یہ محض بیہودہ