| اسلامی زندگی |
ان دعوتوں کا یہ شرعی حکم تھا ۔ اب دنیاوی حالت پر نظر کرو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان تیجہ چالیسواں اوربرسی کی رسموں نے کتنے مسلمانوں کے گھر تباہ کردئیے میرے سامنے بہت سی ایسی مثالیں ہیں کہ مسلمانوں کی دکانیں جائیدادیں اورمکانات چالیسواں اورتیجہ کھا گیا ۔ آج وہ ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں ۔ ایک صاحب نے باپ کے چالیسویں کے لیے ایک بنیے(کراڑ)سے چار سو روپے قرض لیے تھے ۔ ستائیس سو روپیہ ادا کرچکے مگر قرض ختم نہیں ہوا ۔ پھر لطف یہ ہے کہ اس تیجے اورچالیسویں کی رسموں سے صرف ایک ہی گھر تباہ نہیں ہوتا بلکہ دلہن کے میکے والے بھی ساتھ تباہ ہوتے ہیں ۔ یعنی
ہم توڈوبے ہی صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
کیونکہ قاعدہ یہ ہوتاہے اگرتیجہ میت والا کرے تو چالیسویں کی روٹی اس کے سمدھیانے والے کریں ، میرے اس کلام کا تجربہ ان کو خوب ہوا ہوگا کہ جن کو کبھی ا ن رسموں سے واسطہ پڑا ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ میت کا دم نکلا اورمحلہ والی عورتوں مردوں نے گھر گھیرلیا اور اول تو پان دان کے ٹکڑے اڑادئیے ۔ اب سب لوگ جمع ہیں ۔ کھانا آنے کا انتظار ہے ۔ بےچارہ میت والا مصیبت کا مارا اپنا غم بھول جاتاہے یہ فکر پڑ جاتی ہے کہ اس میلے کا پیٹ کس طرح بھروں ۔ پھر جب تک اس بیچارے کا دیوالیہ نہیں نکل جاتا یہ میلہ نہیں ہٹتا ۔ لہٰذا اے مسلمانوں ! ان ناجائز اورخراب رسموں کو بالکل بند کردو۔
موت کے بعد کی اسلامی رسمیں:
کفن دفن کا ساراخرچہ یا تو خود میت کے مال سے ہواوراگر کسی کی بیوی یا بچہ