| اسلامی بہنوں کی نماز |
اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے رِوایت ہے کہ دو جہاں کے سلطان ، سرورِ ذیشان ، محبوبِ رَحمٰن عزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وا ٰلہٖ و سلَّم کی خدمت میں گائے کا گوشت حاضِر کیا گیا ،کسی نے عَرض کی: یہ گوشت حضرتِ سَیِّدَتُنا بَرِیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر صَدَقہ ہوا تھا۔فرمایا :ھُوَ لَھَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ھَدِیَّۃٌ۔یعنی یہ بَرِیرہ کے لیے صَدَقہ تھا ہمارے لیے ہدِیّہ ہے۔
(صَحِیح مُسلِم ص ۵۴۱حدیث۱۰۷۵ )
زکوٰۃ کا شَرعی حِيلہ
اس حدیثِ پاک سے صاف ظاہِر ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا بَرِیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو کہ صَدَقے کی حقدارتھیں ان کو بطورِ صَدَقہ مِلا ہوا گائے کا گوشت اگر چِہ ان کے حق میں صَدَقہ ہی تھا مگر ان کے قَبضہ کر لینے کے بعد جب بارگاہِ رسالت میں پیش کیا گیا تھا تو اُس کا حکم بدل گیا تھا اور اب وہ صَدَقہ نہ رہا تھا ۔ یوں ہی کوئی مستحق شَخص زکوٰۃ اپنے قَبضے میں لینے کے بعد کسی بھی آدمی کو تحفۃً دے سکتا یا مسجِد وغیرہ کیلئے پیش کر سکتا ہے کہ مذکورہ مستحق شخص کا پیش کرنا اب زکوٰۃ نہ رہا ، ھَدِیَّہ یا عَطِیَّہ ہو گیا ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السلام زکوٰۃ کا شرعی حِیلہ کرنے کا طریقہ یوں ارشاد فرماتے ہیں:زکوٰۃ کی رقم مرُدے کی تَجہيز وتکفين يا مسجِدکی تعمير ميں صَرف نہيں کر سکتے کہ تَمليكِ فقير ( یعنی فقیر کو مالِک کرنا)نہ پائی گئی ۔ اگر ان اُمور ميں خرچ کرنا چاہيں تو اِس کا طریقہ یہ ہے کہ فقير کو ( زکوٰۃ کی رقم کا )