دِرہم سمجھا جائے گا۔(1)کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نَجاستِ غلیظہ لگی اور کسی جگہ دِرہم کے برابر نہیں ، مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائد۔ نَجاستِ خفیفہ میں بھی مجموعے ہی پر حکم دیا جائے گا۔(2)
سوال …: کون کون سی چیزیں نجاستِ غلیظہ ہیں ؟
جواب …: آدمی کا پیشاب ،پاخانہ ، بہتا خون ، پیپ، منہ بھر قَے ،دُکھتی آنکھ کا پانی ،حرام چوپایوں کا پیشاب پاخانہ، گھوڑے کی لِیداور ہر حلال جانور کا گوبر، مینگنی ،مرغی اور بَط کی بِیٹ ،ہر قسم کی شراب ،سؤر کا گوشت اور ہڈی اور بال،چھپکلی یا گرگٹ کا خون اور دَرندے چوپایوں کا تھوک، یہ سب چیزیں نجاستِ غلیظہ ہیں ۔اس کے علاوہ دُودھ پیتے بچّے یا بچّی کا پیشاب اور ان کی قَے بھی اگر منه بھر هے نجاستِ غلیظہ ہے اور یہ جو لوگوں میں مشہور ہے کہ ’’ دُودھ پیتے بچّوں کا پیشاب پاک ہے ‘‘ محض غلط ہے۔(3)
نجاستِ خفیفہ
سوال …: نجاستِ خفیفہ کا حکم کیا ہے؟
جواب …: نجاستِ خفیفہ کا حکم ہلکا ہے یعنی کپڑے کے حصّہ یا بدن کے جس عضو میں لگی ہو:
٭… اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے تو معاف ہے۔
٭… اگر چوتھائی کے برابر ہو تو اس کا دھونا واجب ہے۔
٭… اگر زیادہ ہو تو اس کا پاک کرنا فرض ہے ۔ بے دھوئے نماز ہوگی ہی نہیں ۔(4)
سوال …: نجاستِ خفیفہ کون کون سی چیزیں ہیں ؟
________________________________
- 1 بہارِ شریعت، نجاستوں کا بیان، نجاستوں کے متعلق احکام، ۱ / ۳۸۹
- 2 المرجع السابق، ۱ / ۳۹۳
- 3 المرجع السابق، ۱ / ۳۹۰، ۳۹۱ ملتقطاً
- 4 المرجع السابق، ۱ / ۳۸۷