زیارتِ قبور کا مستحب طریقہ
سوال …: زیارتِ قبور کا مستحب طریقہ کیا ہے؟
جواب …: جب بھی کوئی زیارتِ قبور کو جائے تو درج ذیل امور پر عمل کرنا مُستَحَب ہے:
٭… پہلے اپنے مکان پر (غیر مکروہ وقت میں ) دو رَکْعَت نَفْل پڑھے، ہر رَکْعَت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد ایک بار آیت الکرسی ، اور تین بار سورۃ الاخلاص پڑھے اور اس نَماز کا ثواب صاحبِ قَبْرکو پہنچائے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس فوت شدہ بندے کی قَبْر میں نور پیدا کرے گا اور اِس (ثواب پہنچانے والے) شخص کو بَہُت زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔(1)
٭… قبرستان کو جائے تو راستے میں فضول باتوں میں مشغول نہ ہو۔
٭… جب قبرستان پہنچے تو پائنتی (پا۔ اِن۔ تی یعنی قدموں ) کی طرف سے جا کر اس طرح کھڑا ہو کہ قبلہ کو پیٹھ ہو اور میِّت کے چہرے کی طرف منہ۔ میِّت کے سرہانے سے نہ آئے کہ میِّت کیلئے باعثِ تکلیف ہے یعنی میِّت کو گردن پھیر کر دیکھنا پڑتا ہے کہ کون آیا ہے؟(2)
٭… اس کے بعد یہ کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَاۤ اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُاللّٰهُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَ نَحْنُ بِالْاَثْرِ(3)
ترجمہ: سلامتی ہو تم پر اے اہلِ قبرستان! اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے پہلے گئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں ۔
٭… یا یوں کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ اَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّاِنَّـاۤ اِنْ
________________________________
- 1 عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور الخ، ۵ / ۳۵۰
- 2 ردالمحتار، كتاب الصلاة ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في زيارة القبور، ۳ / ۱۷۹
- 3 ترمذی، كتاب الجنائز، باب ما يقول الرججواب الخ، ۲ / ۳۲۹، حديث: ۱۰۵۵