اللہ سے مدد مانگنا ثابت ہے۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بارگاہِ رسالت میں مدد کی درخواست کرتے ہوئے ’’ قصیدۂ نُعمان ‘‘ میں عرض کرتے ہیں :
یَا اَکْرَمَ الثَّقَلَیْنِ یَا کَنْزَ الْـوَرٰی جُدْ لِیْ بِـجُوْدِكَ وَاَرْضِنِیْ بِرِضَاكَ
اَنَا طَامِعٌ بِالْـجُوْدِ مِنْكَ لَمْ یَکُنْ لِاَبِیْ حَنِیْـفَةَ فِی الْاَنَامِ سِوَاكَ
یعنی اے جنّ وانس سے بہتر اورنعمتِ الٰہی کے خزانے! مجھے اپنی جود و سخا میں سے عطا فرمائیے اور اپنی رضا سے بھی نوازئیے۔ میں آپ کی سخاوت کا امیدوار ہوں ، آپ کے سوا ابوحنیفہؔ کا مخلوق میں کوئی نہیں ۔(1)
٭…٭…٭
مزارات پر حاضری اور زِیارَتِ قُبُور
زیارتِ قبور کا شرعی حکم
سوال …: مزارات پر حاضری یا عام افراد کی قبور کی زِیارت کا کیا حکم ہے؟
جواب …: مزارات پر حاضری یا عام افراد کی قبور کی زِیارت جائز و مستحب بلکہ مسنون (یعنی سنت) ہے، آقائے دو جہان، مکِّی مَدَنی سلطان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہدائے اُحد کی زِیارت کو تشریف لے جاتے (2)اور ان کیلئے دعا فرماتے اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تم لوگ قبروں کی زیارت کرو ، وہ دنیا میں بے رَغبتی کاسبب ہیں اور آخِرت یاد دِلاتی ہیں ۔ (3)سوال …: کیا مزاراتِ اولیائے کرام پر حاضری باعثِ برکت ہے؟
جواب …: جی ہاں ! زیارتِ مزاراتِ اولیائے کرام مُوجبِ ہزاراں ہزار برکت وسعادت ہے۔(4)
________________________________
- 1 قصیدۂ نعمانیہ مع الخیرات الحسان ، ص۲۰۰
- 2 ردالمحتار ، كتاب الصلاة، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في زيارة القبور، ۳ / ۱۷۷ المصنف لعبد الرزاق، کتاب الجنائز، باب في زيارة القبور ، ۳ / ۳۸۱، حديث: ۶۷۴۵
- 3 ابن ماجه، كتاب الجنائز، باب ماجاء في زيارة القبور، ۲ / ۲۵۲، حديث: ۱۵۷۱
- 4 فتاویٰ رضویہ، ۲۹ / ۲۸۲