(یعنی خَتم ہو جانے والی دُنیا) سے دارِ بَقا (یعنی باقی رہنے والے جہان) کی طرف منتقل (Transfer) ہو جاتے ہیں ، وہ اپنے پَروَردگار ( عَزَّ وَجَلَّ) کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رِزق دیا جاتا ہے اور خوش وخُرَّم ہیں لیکن لوگوں کو اس کا شُعُور نہیں ۔(1)
٭… حضرتِ عَلَّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی نے ارشاد فرمایا: لَا فَرْقَ لَـھُمْ فِی الْـحَالَـیْنِ وَلِذَا قِیْلَ اَوْلِیَآءُ اللّٰهِ لَا یَمُوْتُوْنَ وَلٰـکِنْ یَّنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰی دَارٍ یعنی اولیائے کرام کی دونوں حالتوں (یعنی زندگی اور موت) میں اَصلاً فرق نہیں ، اِسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔(2)
اولیا ہیں کون کہتا مر گئے
فانی گھر سے نکلے باقی گھر گئے
سوال …: کیا غَیْرُ اللہ سے (یعنی اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے بعدِ وفات) مدد مانگنا جائز ہے؟
جواب …: جی ہاں غَیْرُ اللہ سے (یعنی اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے بعدِ وفات) مدد مانگنا جائز ہے۔ چنانچہ شیخُ الاسلام حضرتِ سیِّدُنا شَہاب رَملی انصاری شافِعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی (مُتَوَفّٰی ۱۰۰۴ھ) سے فتویٰ طلب کیاگیا: (یا سیّدی! ارشاد فرمایئے: ) عام لوگ جو سختیوں (یعنی مصیبتوں ) کے وَقت مَثَلاً ’’ یا شیخ فُلاں ! ‘‘ کہہ کرپکارتے ہیں اور انبیائے کرام واولیائے عِظام سے فریاد کرتے ہیں ، اس کا شَرع شریف میں کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فتویٰ دیا: انبیا ومُرسَلین عَلَیْہِمُ السَّلَام اوراولیا وعُلَما وصالحین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن سے ان کے وِصال (یعنی انتِقال) شریف کے بعد بھی اِستِعانَت واِستِمداد (یعنی مدد طلب کرنا) جائز ہے۔(3)
سوال …: ہم اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ حنفی ہیں ، تو کیا ہمارے امام، امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بھی غَیْرُ اللہ سے مدد مانگنا ثابت ہے؟
جواب …: جی ہاں ! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے امام، حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بھی غَیْرُ
________________________________
- 1 اشعۃ اللمعات، ۳ / ۴۲۳ مُلَخَّصاً
- 2 مرقاۃ المفاتیح، ۳ / ۴۵۹
- 3 فتاویٰ رملی، ۴ / ۷۳۳