Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
86 - 329
جواب …:  	جی نہیں کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ   کاہو، کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچتا۔(1)
سوال …:  	کیا طریقت شریعت کے خلاف ہے؟
جواب …:  	جی نہیں طریقت شریعت ہی کا باطنی حصہ ہے۔ (2)
سوال …:  	کیا کوئی ولی احکامِ شرعیہ کی پابندی سے سبکدوش ہو سکتا ہے؟
جواب …:  	جی نہیں اَحکامِ شرعیّہ کی پابندی سے کوئی ولی کیسا ہی عظیم ہو، سُبکدوش نہیں ہوسکتا۔(3)
سوال …:  	کیا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور شہدائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی طرح اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام بھی بعدِ وفات حیات (زندہ) ہیں ؟
جواب …:  	جی ہاں !  انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور شہدائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی طرح اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام بھی بعدِ وفات حیات (زندہ) ہیں ۔چنانچہ، 
٭…   اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن  ’’ فتاویٰ رضویہ ‘‘  جلد 29 صفحہ 545 پر فرماتے ہیں :  اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام بعدِ وفات زندہ ہیں ، مگر نہ مِثلِ اَنبیا (یعنی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح زندہ نہیں کیونکہ) انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  کی حیات  ’’ روحانی، جسمانی، دنیاوی ‘‘  ہے، (اور یہ) بالکل اُسی طرح زندہ ہوتے ہیں جس طرح دُنیامیں تھے اور اولیا ئے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی حیات ان سے کم اورشُہَدائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  سے زائد، جن کے بارے میں قرآنِ عظیم میں فرمایا:  ان (یعنی شہیدوں ) کو مُردہ مت کہو وہ زندہ ہیں ۔(4)
٭…   حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں :  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ولی اس دارِ فانی 




________________________________
 - 1   بهارِ شريعت،   امامت کا بیان،   ۱ / ۲۵۳
 - 2   بهارِ شريعت،    ولایت کا بیان،   ۱ / ۲۶۴  ملتقطاً
 - 3   بهارِ شريعت،    ولایت کا بیان،   ۱ / ۲۶۶
 - 4   فتاویٰ رضویہ،   ۲۹ / ۵۴۵