نورانی منظر کو دیکھ کر یہ کہا: ؎
مَتٰی یَبْدُ فِی الدَّاجِی الْـبَـھِیْمِ جَبِیْـنُهٗ!
یَلُحْ مِثْلَ مِصْبَاحِ الدُّجَی الْـمُتَوَقِّدِ
یعنی جب اندھیری رات میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مقدس پیشانی ظاہر ہوتی ہے تو اس طرح چمکتی ہے جس طرح رات کی تاریکی میں روشن چراغ چمکتے ہیں ۔
اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کیا خوب فرماتے ہیں :
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اس جبین سعادت پہ لاکھوں سلام
دہن مبارک
سوال …: سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دہن (منہ) مبارک کے متعلق آپ کیا جانتے ہیں ؟
جواب …: سرکار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےرخسار نرم و نازک اور ہموار تھے اور منہ فراخ، دانت کشادہ اور روشن تھے۔ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گفتگو فرماتے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دونوں اگلے دانتوں کے درمیان سے ایک نور نکلتا تھا اور جب کبھی اندھیرے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرا دیتے تو مبارک دانتوں کی چمک سے روشنی ہو جاتی تھی۔(1)
سوال …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دہن مبارک کے متعلق کوئی شعرسنائیے۔
جواب …: اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت دہن مبارک کی مد ح میں فرماتے ہیں : ؎
وہ دہن جس کی ہر بات وحی خدا
چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام
٭…٭…٭
________________________________
- 1 سیرت مصطفٰی ، ص۵۷۴شمائلِ محمدیہ، باب ما جاء فی خلق الخ، ص۲۱، ۲۶، حدیث: ۷، ۱۴