جواب …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نورانی آنکھوں کی بصارت (دیکھنے کی قوت) میں معجزانہ شان تھی، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیک وقت آگے پیچھے، دائیں بائیں ، اوپر نیچے، دن رات، اندھیرے اُجالے میں یکساں دیکھا کرتے تھے۔(1)
سوال …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نورانی آنکھوں کی عظمت کے متعلق کچھ اشعار سنائیے۔
جواب …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نورانی آنکھوں کی عظمت کے متعلق اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : ؎
جس طرف اٹھ گئی دم میں دم آ گیا اس نگاہِ عنایت پہ لاکھوں سلام
کس کو دیکھا یہ موسیٰ سے پوچھے کوئی آنکھوں والوں کی ہمت پہ لاکھوں سلام
سر عرش پر ہے تری گزر دلِ فرش پر ہے تری نظر ملکوت و ملک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عیاں نہیں
گوش مبارک
سوال …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گوش یعنی کان مبارک کے متعلق کچھ بتائیے؟
جواب …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر دو گوش یعنی کان مبارک کامل تھے۔
سوال …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قوتِ سماعت (سننے کی قوت) کیسی تھی؟
جواب …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قوت سماعت میں بھی معجزانہ شان تھی، کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دورو نزدیک کی آوازوں کو یکساں طور پر سن لیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ارشاد فرماتے: اِنِّیْ ۤاَرٰی مَالَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَالَا تَسْمَعُوْنَ یعنی میں جو دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور میں جو سنتا ہوں تم نہیں سنتے۔(2)
________________________________
- 1 خصائص کبریٰ، باب المعجزۃ والخصائص الخ، ۱ / ۱۰۴ ملتقطاً
- 2 ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الحزن والبکاء، ۴ / ۴۶۴، حدیث:۴۱۹۰