Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
77 - 329
حسنِ مصطفٰے
چہرۂ اَنور 
سوال …:  	سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ انور کیسا تھا؟ 
جواب …:  	سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ انور جمالِ الٰہی کا آئینہ، نہایت ہی خوبصورت، پرگوشت اور کسی قدر گولائی میں تھا۔ حضرت سیِّدُنا جابر بن سمرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایک مرتبہ   چاندنی رات میں دیکھا، میں ایک مرتبہ   چاند کی طرف دیکھتا اور ایک مرتبہ   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ انور کو دیکھتا تو مجھے آپ کا چہرہ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آتا۔ (1)
سوال …:  	کیا ہمارے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام سے بھی زیادہ حسین تھے؟
جواب …:  	 جی ہاں !  ہمارے آقا سرورِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام سے بھی زیادہ حسین تھے۔ چنانچہ مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام تمام نبیوں اور رسولوں بلکہ تمام مخلوق سے زیادہ حسین تھے مگر ہمارے آقا میٹھے میٹھے مصطفٰے کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے جو حسن عطا فرمایا وہ کسی اور کو عطا نہ ہوا۔ اس کے علاوہ حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کو حسن و جمال کا ایک حصہ ملا تھا مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حسنِ کل عطا ہوا۔(2)
حسن ہے بے مثل صورت لاجواب
میں فدا، تم آپ ہو اپنا جواب
سوال …:   سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ انور کے حسن کے متعلق اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے 



________________________________
 - 1   شمائلِ محمدیۃ،  باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،   ص۲۴،   حدیث:۹
 - 2   خصائص کبریٰ،   باب ما اولٰی یوسف علیہ الصلوۃ والسلام،   ۲ / ۳۰۹