Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
65 - 329
نے تین مرتبہ   لَـبَّیْك اورتین مرتبہ   نُصِرْتَ  فرمایا، گویا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی سے کلام فرمارہے ہیں کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس کوئی تھا؟ تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: راجزمجھ سے فریاد کررہا تھا۔(1)حضرت سیِّدُنا راجز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکہ مکرمہ میں اور حضور ِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ منورہ میں تھے۔
٭…٭…٭
نورانیت و بشریتِ مصطفٰے
سوال …:  	 کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی نور بھی ہو اور بشر بھی؟
جواب …:  	 جی ہاں !  ایسا بالکل ممکن ہے کیونکہ نورانیت اور بشریت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں ۔ حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نوری مخلوق ہونے کے باوجود حضرت سیدتنا مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سامنے انسانی شکل میں جلوہ گر ہوئے تھے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  
فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا(۱۷) (پ۱۶، مریم: ۱۷) 
ترجمۂ کنز الایمان:   تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا ۔
سوال …:  	نور وبشر ہونے کے اعتبار سے  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق ہمارا عقیدہ کیا ہے؟ 
جواب …:  	 نور وبشر ہونے کے اعتبار سے  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے مدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نور بھی ہیں اور بشر بھی۔ یعنی حقیقت کے اعتبار سے نور اور صورت کے اعتبار سے بے مثل بشر ہیں ۔
سوال …: کیا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نور ہونا قرآنِ پاک سے ثابت ہے؟



________________________________
 - 1   المعجم الصغیر،   الجزء الثانی،   ص ۷۳