اسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اعمالِ امت پر حاضر وناظر ہوں ۔
2 …: پارہ 2، سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 143میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ-
ترجمۂ کنز الایمان: اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔
اس آیت کے تحت تفسیر روح البیان میں ہے: رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا امت کے بارے میں گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نورِ حق کی وجہ سے دین پر چلنے والے ہر دین دار کے رتبے کو جانتے ہیں اور اس کے دین کی حقیقت کو بھی، نیز اس رکاوٹ سے بھی واقف ہیں جس نے اُمّتی کو دین میں کمال حاصل کرنے سے روک رکھا ہے۔ پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی امت کے گناہوں کو پہچانتے ہیں ، ان کے ایمان کی حقیقت کو، اُمت کے اعمال، ان کی نیکیوں ، برائیوں ، اِخلاص اور نفاق سب کو نورِ حق کی وجہ سے جانتے اور پہچانتے ہیں ۔(1) ور یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اعمالِ امت پر حاضر وناظر ہوں ۔
سوال …: کیا حاضر و ناظر کا عقیدہ احادیث ِ کریمہ سے بھی ثابت ہے ؟
جواب …: جی ہاں ! حاضر و ناظر کا عقیدہ احادیث ِ کریمہ سے بھی ثابت ہے ۔چنانچہ،
1…: حضرت سیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے اس کے مشرق ومغرب کا تمام حصہ دیکھ لیا اور عنقریب میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک کہ زمین میرے لیے سمیٹی گئی(2) معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مقام پر موجودہوتے ہوئے پوری رُوئے زمین کو ملاحظہ فرمارہے تھے۔
________________________________
- 1 تفسیر روح البیان، پ۲، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ۱ / ۲۴۸
- 2 مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ھلاک ھذہ الامۃ بعضھم ببعض، ص ۱۵۴۴، حدیث: ۲۸۸۹