Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
62 - 329
جواب …:   جی ہاں !  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عطا سے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حاضر وناظر ہیں یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی قبر انور میں رہتے ہوئے نورِ نبوت سے اپنے ہر امتی کے ہر ہر عمل کا مشاہدہ فرما رہے ہیں ، تمام عالَم کو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح دیکھتے، دور ونزدیک کی آوازیں سنتے، جہاں چاہیں ، جتنے مقامات پر چاہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عطاکردہ طاقت سے جلوہ گرہو سکتے ہیں ۔
سوال …:  	 کیا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے جسمِ بشری کے ساتھ ہر جگہ موجود ہیں ؟
جواب …:  	 جی نہیں !  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے جسمِ بشری کے ساتھ ہرجگہ موجود نہیں بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی نورانیت، روحانیت اور علمیت کے اعتبار سے ہر جگہ اسی طرح موجود ہیں جس طرح سورج آسمان پر ہوتا ہے لیکن اپنی روشنی اور نورانیت کے ساتھ رُوئے زمین پر موجود ہوتا ہے۔ البتہ!  اگر چاہیں تو جسمِ بشری کے ساتھ جہاں چاہیں حاضر ہو سکتے ہیں ۔
سوال …:  	 کیا حاضر وناظر کا عقیدہ قرآنِ پاک سے ثابت ہے ؟
جواب …:  	 جی ہاں !  حاضر وناظر کا عقیدہ قرآنِ کریم کی متعدد آیاتِ مبارکہ سے ثابت ہے ۔ چنانچہ، 
1 …:   	پارہ  22، سورۂ احزاب کی آیت نمبر 45 میں ارشاد ہوتا ہے: 
 اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا   ۔
 ترجمۂ کنز الایمان:   بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر۔ 
اس آیت کے تحت تفسیر روح المعانی میں ہے:  یعنی ہم نے آپ کو ان سب پرگواہ بناکر بھیجا جن کی طرف آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رسول بنا کر بھیجے گئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے احوال کو دیکھتے اور ان کے اعمال کا مشاہدہ فرماتے ہیں ۔ جو کچھ بھی تصدیق وتکذیب ان سے صادر ہو رہی ہے اس پر گواہ بن رہے ہیں ، ہدایت وگمراہی میں سے جس پر بھی لوگ ہیں اس پر بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گواہ ہیں اور یہ گواہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قیامت کے دن ادا فرمائیں گے جو اُمت کے حق میں بھی قبول ہوگی اور مخالفت میں بھی۔(1)  اور یہ سب



________________________________
 - 1   تفسیر روح المعانی،   پ ۲۲،   الاحزاب،   تحت الآیۃ: ۴۵،   الجزء الثانی والعشرون،   ص ۳۰۴