Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
61 - 329
رب ہے معطی یہ ہیں قاسم
رزق اس کا ہے کھلاتے یہ ہیں
٭…٭…٭
حاضر  وناظر مصطفٰے
سوال …:  	 حاضر وناظر کا مطلب کیا ہے؟ 
جواب …:  	 حاضر کے لغوی معنی ہیں ”موجود، جو سامنے ہو“ اور ناظر کے معنی ہیں ”دیکھنے والا“۔ چنانچہ جہاں تک ہماری نظر کام کرے وہاں تک ہم ناظر ہیں اور جو جگہ ہماری پہنچ میں ہو وہاں تک ہم حاضر ہیں ۔ مثلاً آسمان تک نظر کام کرتی ہے وہاں تک ہم ناظر ہیں مگر حاضر نہیں کیونکہ وہاں تک ہماری پہنچ نہیں اور جس کمرے یا گھر میں ہم موجود ہیں وہاں حاضر ہیں کہ اس جگہ ہماری پہنچ ہے۔ جبکہ حاضر و ناظر کے شرعی معنی یہ ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا بندہ بعطائے الٰہی ایک ہی جگہ رہ کر تمام جہان کو اپنی ہتھیلی کی طرح دیکھے اور دور و قریب کی آوازیں سنے یا ایک آن میں تمام عالَم کی سیر کرے اور صدہا کوس پر حاجت مندوں کی حاجت روائی کرے۔ یہ رفتار خواہ صرف روحانی ہو یا جسم مثالی کے ساتھ، قبر میں مدفون جسم سے ہو یا کسی دوسری جگہ موجود جسم سے۔(1)
سوال …:  	 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کو حاضر وناظر کہنا کیسا ؟ 
جواب …:  	 اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو حاضر و ناظر نہیں کہنا چاہیے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  جگہ اور مکان سے پاک ہے۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ہرجگہ میں حاضر و ناظر ہونا خدا کی صفت ہر گز نہیں خدائے تَعَالٰی جگہ اور مکان سے پاک ہے۔(2)
سوال …:  	 کیا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حاضرو ناظر ہیں ؟



________________________________
 - 1   جاء الحق،   ص ۱۴۵
 - 2   جاء الحق،   ص ۱۴۳