اَطَاعتِ مُصْطَفٰے
سوال …: کیا ہم پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرنا فرض ہے؟
جواب …: جی ہاں ! ہم پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرنا فرض ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نائب مطلق (یعنی خلیفہ) ہیں ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت۔جیسا کہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- (پ۵، النسآء: ۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا ۔
٭…٭…٭
عَطَائے مُصْطَفٰے
سوال …: کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کسی کو تمام جہانوں میں تصرف کا اختیار دیا ہے؟
جواب …: جی ہاں ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام جہانوں میں تصرف کا اختیار دیا ہے۔
سوال …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام جہانوں میں کس قسم کا تصرف فرماتے ہیں ؟
جواب …: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آسمان وزمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں عطا فرما رکھی ہیں ، اب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تمام نعمتوں اور عطاؤں کو پوری کائنات میں تقسیم فرماتے ہیں ۔ (1)
سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ؎
________________________________
- 1 مسلم ، کتاب الفضائل ، باب اثبات حوض نبینا صلی اللہ علیہ وسلم وصفاتہ ، ص۱۲۵۸، حدیث: ۳۰- (۲۲۹۶)مواھب لدنیۃ، الفصل الثانی، اعطی مفاتیح الخزائن ، ۲ / ۶۳۹