Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
58 - 329
اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَـيْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِينَ۔ یعنی تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔ (1)
سوال …:  	سلطانِ بَحرو بر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا تقاضا کیا ہے؟ 
جواب …:  	سلطانِ بَحرو بر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام صحابہ و اہل بیت اور تمام متعلقین و متوسلین سے محبت کی جائے اور سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام دشمنوں سے عداوت و دشمنی ہو۔ اگرچہ وہ اپنا باپ یا بیٹا یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ رسول سے بھی محبت ہو اور ان کے دشمنوں سے بھی۔(2)  چنانچہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۳) (پ۱۰،التوبۃ: ۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:  اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں ۔ 
ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:  
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ 
ترجمۂ کنز الایمان:  تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہاور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں



________________________________
 - 1   بخاری،   کتاب الایمان،   باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان،   ۱ / ۱۷،   حدیث: ۱۵
 - 2   الشفاء،   فصل فی علامات محبتہ صلی اللہ علیہ وسلم،   الجزء الثانی ، ص۲۱