Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
55 - 329
7 …:   ساتویں آسمان پر حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی۔(1)
سوال …:  	 سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس آسمانی سفر کا انکار کرنے والے کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب …:   سفرِ مِعراج کے تین حصّے ہیں :  (1)اسرٰی (2)مِعراج (3)اِعراج یا عُرُوج۔ چنانچہ، 
		(1)اسریٰ یعنی مکّۂ مکرَّمہ سے حُضُور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بَیْتُ المقدَّس تک شب کے تھوڑے سے حصے میں تشریف لے جانا نصِّ قرآنی (یعنی قرآنِ پاک کی واضح آیت اور روشن دلیل) سے ثابِت ہے۔ اِس کا مُنکِر (انکار کرنے والا) کافِر ہے۔ 
		(2)مِعراج یعنی آسمانوں کی سَیر اور مَنازِلِ قُرب میں پہنچنا احادیثِ صَحِیْحَہ (صَحِی۔ حَہ) مُعتَمَدہ (مُع۔تَ۔ مَدَہ) مَشہُورَہ (مَش۔ہُورَہ) سے ثابِت ہے، اس کا مُنکِر (انکار کرنے والا) گمراہ ہے۔ 
		(3)اِعراج یا عُرُوجیعنی سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر کی آنکھوں سے دیدارِ الٰہی کرنے اور فوقَ العرش (عرش سے اوپر) جانے کا منکِر (انکار کرنے والا) خاطی یعنی خطا کار ہے۔(2)
سوال …:  	 شبِ معراج سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیت المقدس میں کس نماز کی امامت فرمائی؟
جواب …:   شبِ معراج سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیت المقدس میں جس نماز کی امامت فرمائی وہ نماز تحیۃ المسجد تھی۔ چنانچہ حضرت علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :  مدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی اور ظاہر یہی ہے کہ یہی وہ نماز ہے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اقتدا کی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اصفیا کے امام بنے۔(3)
٭…٭…٭



________________________________
 - 1   سیرتِ مصطفٰے ، ص ۷۳۳
 - 2   کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،   ص ۲۲۶،   ۲۲۷ ماخوذاً
 - 3   مرقاۃ،   کتاب الفضائل،   باب فی المعراج،    ۱۰ / ۱۶۷،   تحت الحدیث: ۵۸۶۳