معراجِ مصطفٰے
سوال …: معراج سے کیا مراد ہے؟
جواب …: تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک، پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں اور کرسی و عرش تک اور وہاں سے اوپر جہاں تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو منظور ہوا رات کے تھوڑے سے حصہ میں سیر کرائی۔ اس رات بارگاہِ خداوندی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وہ قربِ خاص حاصل ہوا کہ کسی نبی اور فرشتہ کو نہ کبھی حاصل ہوا نہ کبھی ہوگا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس آسمانی سفر کو ’’ معراج ‘‘ کہتے ہیں ۔ (1)
سوال …: معراج شریف کب ہوئی؟
جواب …: معراج شریف رجب المرجب کی ۲۷ ویں رات کو ہوئی۔
سوال …: معراج شریف کا تذکرہ قرآنِ کریم کی کس سورت میں ہے؟
جواب …: معراج شریف کا تذکرہ قرآنِ کریم کے پارہ نمبر 15، سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں کچھ یوں ہے:
________________________________
- 1 تفسیراتِ احمدیۃ ، بنی اسرآئیل، تحت الآیۃ :۱، مسئلۃ المعراج ، ص۵۰۲۔۵۰۵ ملتقطاً نبراس، بیان المعراج، ص۲۹۲۔۲۹۵ملتقطاً