کو نبوت ملنے کا اعتقاد رکھے یا کسی نئے نبی کے آنے کو ممکن مانے وہ کافر ہے۔(1)
سوال …: حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تشریف آوری سے کیا عقیدہ ختم نبوت پر کوئی فرق واقع ہو سکتا ہے؟
جواب …: جی نہیں ! حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تشریف آوری سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی فرق واقع نہیں ہو گا، اس لیے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تشریف آوری بطورِ نبی نہیں بلکہ بطورِ امتی ہو گی۔ چنانچہ تفسیرِ نسفی میں ہے کہ سرکارِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کوئی نبی نہیں ، حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تشریف آوری نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ شریعتِ محمدیہ کے ایک پیروکار کی حیثیت سے ہو گی گویا کہ وہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے امتی ہوں گے۔(2)
سوال …: کیا ختم نبوت کا ثبوت قرآنِ کریم میں ہے؟
جواب …: جی ہاں ! ختم نبوت کا عقیدہ قرآنِ کریم سے ثابت ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰) (پ ۲۲،الاحزاب : ۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان: محمد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
امام خازن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں : خَتَمَ اللهُ بِهِ النُّـبُوَّةَ فَلَا نُـبُوَّةَ بَعْدَهٗ اَیْ وَلَا مَعَهٗ۔ ترجمہ: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سلسلۂ نبوت کو ختم فرما دیا، اب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی نبوت میں آپ کے ساتھ شریک ہے۔(3)
٭…٭…٭
________________________________
- 1 المعتقد المنتقد مع شرحہ المعتمد المستند، تکمیل الباب، ص۱۲۰
- 2 تفسیر نسفی، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ:۴۴، ص ۹۴۳
- 3 تفسیر ابن کثیر، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ:۴۴، ۶ /۳۹۱