Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
47 - 329
جواب …:  اگر کوئی قرآنِ مجید میں کسی قسم کی کمی بیشی کا قائل ہو تو اسے کافر کہیں گے۔ (1) کیونکہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:   لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖؕ-تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ(۴۲) (پ۲۴، حم السجدۃ:  ۴۲)  ترجمۂ کنز الایمان:  باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا۔  صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی  خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  یعنی کسی طرح اور کسی جہت (سمت، طرف) سے بھی باطل اس تک راہ نہیں پاسکتا ، وہ تغییر و تبدیل و کمی و زیادتی سے محفوظ ہے ، شیطان اس میں تصرف (یعنی اپنی طرف سے کچھ شامل کرنے یا بنا دینے) کی قدرت نہیں رکھتا۔
سوال …:  	قرآنِ مجید میں کل کتنے پارے اور سورتیں ہیں ؟ 
جواب …:  	قرآنِ مجید میں کل 30 پارے اور 14 1سورتیں ہیں ۔ 
سوال …:  	قرآنِ پاک کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی؟
جواب …:  	سب سے پہلے سورۂ علق کی یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی: 
 اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱) (پ۳۰،العلق : ۱) 
 ترجمۂ کنز الایمان:  پڑھو اپنے رب کے نام سے۔  (2)
سوال …:  	قرآنِ پاک کی کون سی آیت سب سے آخر میں نازل ہوئی؟
جواب …:  	سب سے آخر میں سورۂ بقرہ کی یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:  وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِۗ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠(۲۸۱)


________________________________
 - 1   الشفاء ، فصل واعلم ان من استخف بالقرآن    الخ،    الجزء الثانی،   ص۲۶۴ ماخوذاً
 - 2   الاتقان،  باب معرفۃ المکی والمدنی،  ۱ / ۱۴