انہیں کیاکہیں گے؟
جواب …: جو لوگ نبیوں اور رسولوں بالخصوص سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم غیب کو بالکل نہیں مانتے، کافر ہیں کیونکہ اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ رضویہ شریف کی 29ویں جلد کے صفحہ 414 پر مطلقاً علمِ غیب کے انکار کو ضروریاتِ دین کا انکار قرار دیا ہے اور جو شخص ضروریاتِ دین کا منکر ہو کافر ہوتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ جو شخص علمِ غیب تو مانے لیکن غیوبِ خمسہ کو نہ مانے تو وہ بدمذہب و گمراہ ہے کیونکہ غیوبِ خمسہ پر ایمان ضروریاتِ اہل سنت سے ہے اور ضروریاتِ اہل سنت کا منکر بدمذہب و گمراہ ہوتا ہے۔
٭…٭…٭
سورۃ البقرہ کے فضائل
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی خزائن العرفان میں سورۂ بقرہ کی ابتدا میں فرماتے ہیں: اس سورت میں 286 آیتیں، 40 رکوع، 6121 کلمے، پچیس ہزار پانچ سو حرف ہیں ۔ (خازن) پہلے قرآنِ پاک میں سورتوں کے نام نہ لکھے جاتے تھے، یہ طریقہ حجّاج نے نکالا ۔ ابنِ عربی کا قول ہے کہ سورۂ بقرہ میں ہزار امر، ہزار نہی، ہزار حکم، ہزار خبریں ہیں۔ اس کے اخذ میں برکت ، ترک میں حسرت ہے، اہلِ باطل جادو گر اس کی استطاعت نہیں رکھتے، جس گھر میں یہ سورت پڑھی جائے تین دن تک سرکش شیطان اس میں داخل نہیں ہوتا۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں یہ سورت پڑھی جائے۔ (جمل) بیہقی و سعید بن منصور نے حضرت مغیرہ سے روایت کی کہ جو شخص سوتے وقت سورۂ بقرہ کی دس آیتیں پڑھے گا قرآن شریف کو نہ بھولے گا، وہ آیتیں یہ ہیں چار آیتیں اوّل کی اور آیت الکرسی اور دو اس کے بعد کی اور تین آخر سورت کی۔ مسئلہ: طبرانی وبیہقی نے حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کی کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: میت کو دفن کر کے قبر کے سرہانے سورۂ بقرہ کے اول کی (پانچ) آیتیں اور پاؤں کی طرف آخر کی (دو) آیتیں پڑھو۔