عِلْمِ اَنْبیا و رُسُل
سوال …: کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی غیب کی باتیں بھی جانتے ہیں ؟
جواب …: جی ہاں ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے نبیوں کو بہت سی غیب کی باتوں کا علم عطا فرمایا ہے۔جیسا کہ ارشادِ باری تَعَالٰی ہے:
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- (پ۴، اٰل عمران: ۱۷۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چُن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔
اور بالخصوص سرکارِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم کے متعلق یوں ارشاد فرمایا:
وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ؕ (پ۵، النسآء: ۱۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے۔
سوال …: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علمِ غیب اور نبیوں رسولوں کے علمِ غیب میں کیا فرق ہے؟
جواب …: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا علم اور اس کا ہر کمال ذاتی ہے، کسی کا دیا ہوا نہیں ۔ جیسا کہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:
اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ (پ۱۱، یونس: ۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ غیب تو اللہ کے لیے ہے۔ جبکہ نبیوں اور رسولوں کا علمِ غیب عطائی ہے یعنی انہیں یہ علم اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عطا فرمایا ہے۔
سوال …: اگر کوئی شخص غیرِ خدا کے متعلق یہ عقیدہ رکھے کہ اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کے بِغیر علمِ غیب حاصِل ہے تو اسے کیا کہیں گے؟
جواب …: ایسا عقیدہ رکھنا صریح کفر ہے۔ اس لیے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ جس کو بھی علمِ غیب ملا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے ملا۔ چنانچہ بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 10پر ہے: کوئی شخص غیرِ خدا کے لئے ذاتی (یعنی بغیر ﷲ کے دیئے) علمِ غیب مانے وہ کافر ہے۔
سوال …: جو لوگ نبیوں اور رسولوں بالخصوص سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم غیب کو بالکل نہیں مانتے