سوال …: کیا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے موت کا ذائقہ چکھا ہے؟
جواب …: جی ہاں ! تصدیقِ وعدۂ الٰہیہ کے لیے ایک آن کو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر موت طاری ہوئی، پھر وہ بدستور زندہ ہوگئے ۔ (1)چنانچہ اعلیٰ حضرت نے کیا خوب اس کی منظر کشی کی ہے:
انبیا کو بھی اجل آنی ہے مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
پھر اسی آن کے بعد ان کی حیات مثل سابق وہی جسمانی ہے
سوال …: انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور شہدائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی حیات میں کیا فرق ہے؟
جواب …: انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور شہدائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی حیات میں فرق یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو جو زندگی عطا فرمائی ہے وہ شہیدوں کی زندگی سے کہیں بڑھ کر اَرفع واعلیٰ ہے۔ (2) یہی وجہ ہے کہ شہیدوں کا ترکہ تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ان کی بیویاں عدت کے بعد دوسروں سے نکاح کر سکتی ہیں ۔ مگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نہ ترکہ تقسیم ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی بیویاں عدت کے بعد دوسروں سے نکاح کرسکتی ہیں ۔ (3)
سوال …: کیا کوئی نبی اب بھی حیاتِ ظاہری کے ساتھ زندہ ہے؟
جواب …: چار انبيائے كرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حياتِ ظاهري كے ساتھ زنده هيں ۔ ان ميں سے دو یعنی حضرت سیِّدُنا عيسيٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سیِّدُنا ادريس عَلَیْہِ السَّلَام آسمانوں پر هيں اور دو یعنی حضرت سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سیِّدُنا الياس عَلَیْہِ السَّلَام زمين پر هيں ۔(4)
٭…٭…٭
________________________________
- 1 بہارِ شریعت، عقائد متعلقہ نبوت، ۱ / ۵۸
- 2 حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین، پ۳، آل عمران:۱۶۹، ۱ / ۳۳۳، وآیت:۱۸۵، ۱ / ۳۴۰
- 3 بہارِ شریعت، عقائد متعلقہ نبوت، ۱ / ۵۸
- 4 ہما را اسلام، حصه سوم، ص ۱۰۳