انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی حیات کیسے ثابت ہو گی؟
جواب …: پ 5، سورۂ نساء کی آیت نمبر 69میں ہے:
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہنے فضل کیا یعنی انبیا اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ۔
اس آیتِ مبارکہ میں جن چار گروہوں کا تذکرہ ہے ان میں شہدائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا ذکر تیسرے نمبر پر اور عام نیک لوگوں کا ذکر چوتھے نمبر پر ہے، جب انعام شدہ لوگوں میں تیسرے نمبر والوں کی حیات قرآنِ کریم سے ثابت ہے تو دوسرے نمبر پر موجود صدیقین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن اور پہلے نمبر پر موجود انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی حیات بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوگی۔(1)
سوال …: کیاحیات کا عقیدہ حدیث سے بھی ثابت ہے؟
جواب …: جی ہاں ! حیات کا عقیدہ حدیث سے بھی ثابت ہے۔ چُنانچِہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دو فرامین مبارکہ پیشِ خدمت ہیں :
سوال …: اَلْاَنْبِیَآءُ اَحْیَآءٌ فِیْ قُبُوْرِھِمْ یُصَلُّوْنَ۔ یعنی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نَماز پڑھتے ہیں ۔(2)
2 … : اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَى الْاَرْضِ اَنْ تَاْكُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِيَآءِ فَنَبِیُّ اللّٰهِ حَیٌّ يُّرْزَقُ۔ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے زمین پر حرام ٹھہرا دیا ہے کہ وہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے جسموں کو کھائے، پس اللہ کا (ہر) نبی زندہ ہے اور رزق دیا جاتا ہے۔(3)
________________________________
- 1 مقامِ رسول، ص ۴۹۷ ملخصاً
- 2 مسند ابی یعلی، ۳ / ۲۱۶، حدیث:۳۴۱۲
- 3 ابن ماجہ، کتاب الجنائز، ذکر وفاتہ و دفنہ ، ۲ / ۲۹۱، حدیث: ۱۶۳۷