Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
35 - 329
تَبْلِیغِ رِسَالَت
سوال …:  	تبلیغ سے کیامراد ہے؟ 
جواب …:  	تبلیغ سے مراد ہےاللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے احکام کولوگوں تک پہنچانا ۔ 
سوال …:  	کیا پیغمبروں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے تمام احکام لوگوں تک پہنچا دئیے ہیں ؟ 
جواب …:  	 جی ہاں !  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے پیغمبروں پر شریعت کے جتنے احکام تبلیغ کے لیے نازل فرمائے ان پیغمبروں نے ان تمام احکام کو خدا کے بندوں تک پہنچادیا ہے۔(1)
سوال …:  	 اگر کوئی یہ کہے کہ کسی نبی یا رسول نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے تمام احکام لوگوں تک نہیں پہنچائے تو اسے کیا کہیں گے؟ 
جواب …:  	جو یہ کہے کہ کسی نبی یا رسول نے کسی حکم کو کسی بھی وجہ سے چھپا لیا اور لوگوں تک نہیں پہنچایا وہ کافر ہے۔(2)
٭…٭…٭
دلیلِ رِسَالت
سوال …:  	کیا رسولوں کے پاس اپنی رسالت کی کوئی دلیل ہوتی ہے؟ 
جواب …:  	جی ہاں !  رسولوں کے پاس اپنی رسالت کی دلیل ہوتی ہے اور اسے معجزہ کہتے ہیں ۔ 
سوال …:  	معجزہ کیا ہوتا ہے؟ 
جواب …:  	اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اپنے پیغمبروں کی سچائی ظاہر کرنے کے لیے ان کے ہاتھوں پر ایسی ایسی حیرت اور تعجب میں ڈالنے والی چیزیں ظاہر فرمائیں جو بہت ہی مشکل اور عادت کے خلاف ہیں اور دوسرے لوگ ایسا نہیں کرسکتے۔ ان چیزوں کو  ’’ معجزہ ‘‘  کہتے ہیں ۔ (3)  



________________________________
 - 1   الیواقیت والجواھر،   المبحث الثانی والثلاثون فی ثبوت رسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم،   ص۲۵۲
 - 2   المعتقد المنتقد مع شرحہ المعتمد المستند،   الباب الثانی فی النبوات،   منہ تبلیغ جمیع ما امروا بتبلیغہ،   ص۱۱۴
 - 3   شرح العقائد النسفیۃ ، والنوع الثانی خبر الرسول المؤید بالمعجزۃ ، ص۱۷،   مبحث النبواۃ ، ص۱۳۵