دعا کے تین فائدے
شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو مسلمان ایسی دعا کرے جس میں گناہ و قطع رحمی کی کوئی بات شامل نہ ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک ضرور عطا فرماتا ہے:
(1)… اس کی دعا کا نتیجہ جلد ہی اس کی زندگی میں ظاہر ہو جاتا ہے۔
(2)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کوئی مصیبت اس بندے سے دور فرما دیتا ہے۔
(3)… اس کے لئے آخرت میں بھلائی جمع کر دی جاتی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ بندہ جب آخرت میں اپنی دعاؤں کا ثواب دیکھے گا جو دنیا میں مستجاب (یعنی مقبول) نہ ہوئی تھیں تو تمنا کرے گا: کاش! دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔(1)
٭…٭…٭
آیتُ الکرسی کی فضیلت
جو شخص ہر نماز کے بعد آیة الکرسی پڑھے گا اس کو حسب ذیل برکتیں نصیب ہوں گی: اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
(1) وہ مرنے کے بعد جنت میں جائے گا۔
(2) وہ شیطان اور جن کی تمام شرارتوں سے محفوظ رہے گا۔
(3) اگر محتاج ہوگا تو چند دنوں میں اس کی محتاجی اور غریبی دُور ہو جائے گی۔
(4) جو شخص صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت آیة الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں خٰلِدُوْنَ تک پڑھا کرے گا وہ چوری، غرق آبی اور جلنے سے محفوظ رہے گا۔
(5) اگر سارے مکان میں کسی اونچی جگہ پر لکھ کر اس کا کتبہ آویزاں کر دیا جائے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس گھر میں کبھی فاقہ نہ ہوگا بلکہ روزی میں برکت اور اِضافہ ہوگا اور اس مکان میں کبھی چور نہ آسکے گا۔ (جنّتی زیور، ص۵۸۹)
________________________________
1 - ترمذی، كتاب الدعوات، باب فی جامع الدعوات...الخ، ۵ / ۲۹۲، حديث : ۳۴۹۰