بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ(۱۸۶) (پ۲، البقرۃ: ۱۸۶)
مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں ۔
پیارے مدنی منو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیدا ہوتے ہی اپنی امت کے حق میں یہ دعا مانگی: رَبِّ ھَبْ لِی اُمَّتِی۔ یعنی خدایا میری امت کو میرے واسطے بخش دے۔
نیز سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کثیر احادیثِ مبارکہ میں بار بار دعا مانگنے کی ترغیب دلائی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
اَلدُّعَآءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ۔
ترجمہ: دعاعباد ت کا مغزہے۔(1)
اور نہ مانگنے کی صورت میں ربِ جلیل کا نہایت سخت حکم بھی سنایا:
مَنْ لَا یَدْعُوْنِی اَغْضِبُ عَلَیْهِ (2)
یعنی جو مجھ سے نہ مانگے گا میں اس پر غضب فرماؤں گا۔
آدابِ دعا
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی ’’ خزائن العرفان ‘‘ میں فرماتے ہیں: اللہ تعالٰی بندوں کی دعائیں اپنی رحمت سے قبول فرماتا ہے اور انکے قبول کے لیے چند شرطیں ہیں : ایک اخلاص دعا میں ۔ دوسرے یہ کہ قلب غیر کی طرف مشغول نہ ہو۔ تیسرے یہ کہ وہ دعا کسی امرِ ممنوع پر مشتمل نہ ہو۔ چوتھے یہ کہ اللہ تعالٰی کی رحمت پر یقین رکھتا ہو۔پانچویں یہ کہ شکایت نہ کرے کہ میں نے دعا مانگی قبول نہ ہوئی۔ یہ شرائط نقل فرمانے کے بعد صدر الافاضل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب ان شرطوں سے دعا کی جاتی ہے قبول ہوتی ہے حدیث شریف میں ہے کہ دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے یا تو اس کی مراد دنیا ہی میں اس کو جلد دے دی جاتی ہے یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ ہوتی ہے یااس سے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیا جاتا ہے۔(3)
________________________________
1 - ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی فضل الدعاء، ۵ / ۲۴۳، حدیث: ۳۳۸۲
2 - الجامع الصغیر، ص ۳۷۷، حدیث: ۶۰۶۹
3 - خزائن العرفان، پ۲۴، المومن، تحت الآیۃ: ۶۰