Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
321 - 329
دُعا
دُعا کی اہمیت
پیارے مدنی منو!  دُعا جس طرح اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  سے مناجات کرنے، اس کی قربت حاصل کرنے، اس کے فضل وانعام کے مستحق ہونے اور بخشش و مغفرت کا پروانہ حاصل کرنے کا نہایت آسان اور مجرب ذریعہ ہے۔ اسی طرح دعا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت، اس کے پیارے بندوں کی عادت اور درحقیقت عبادت بلکہ مغزِ عبادت اور گناہ گار بندوں کے حق میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت و سعادت ہے۔
قرآنِ کریم واحادیث مبارکہ میں جگہ جگہ دعا مانگنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ چنانچہ، 
دعا سے متعلق قرآن کریم میں فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  
وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۲۰) (پ۲۴، المومن:  ۶۰) 
ترجمۂ کنز الایمان:  اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے ہیں عنقریب جہنّم میں جائیں گے ذلیل ہو کر۔ 
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:  
وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ-اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ-فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْ
ترجمۂ کنز الایمان:  اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے تو انہیں چاہیے میرا حکم