Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
320 - 329
اذنِ طیبہ کی آس میں آقا
وہ پُر ارماں سلام کہتے ہیں 
				تیرے روضے کی جالیوں کے پاس
				ساتھ رحم و کرم کی لیکر آس
کتنے دُکھیارے روز آ آ کے
شاہِ ذیشاں سلام کہتے ہیں 
				آرزوئے حرم ہے سینے میں 
				اب تو بلوائیے مدینے میں 
تجھ سے تجھ ہی کو مانگتے ہیں جو
وہ مسلماں سلام کہتے ہیں 
				رُخ سے پردے کو اب اٹھا دیجے
				اپنے قدموں سے اب لگا لیجے
آہ!  جو نیکیوں سے ہیں یکسر 
خالی داماں سلام کہتے ہیں 
				آپ عطار کیوں پریشاں ہیں 
				بد سے بدتر بھي زيرِ داماں هيں 
ان پہ رحمت وہ خاص کرتے ہیں 
جو مسلماں سلام کہتے ہیں 
 ٭…٭…٭