اُستاذ کی کرتا رہوں ہر دم میں اِطاعت
ماں باپ کی عزّت کی بھی توفیق خُدا دے
کپڑے میں رکھوں صاف تُو دِل کو مِرے کر صاف
مولیٰ تُو مدینہ مِرے سینے کو بنا دے
فِلموں سے ڈِراموں سے دے نفرت تُو الٰہی!
بس شوق مجھے نعت وتِلاوت کا خُدا دے
میں ساتھ جماعت کے پڑھوں ساری نَمازیں
اللہ! عبادت میں مِرے دل کو لگا دے
پڑھتا رہوں کثرت سے دُرُود اُن پہ سدا مَیں
اور ذِکْر کا بھی شوق پئے غوث ورضاؔ دے
ہر کام شریعت کے مطابِق میں کروں کاش!
یاربّ! تو مُبلّغ مجھے سُنّت کا بنا دے
میں جھوٹ نہ بولوں کبھی گالی نہ نِکالوں
اللہ! مَرَض سے تُو گناہوں کے شِفا دے
میں فالتو باتوں سے رہوں دُور ہمیشہ
چُپ رہنے کا اللہ! سلیقہ تُو سِکھا دے
اَخلاق ہوں اچّھے مِرا کردار ہو سُتھرا
محبوب کا صَدقہ تُو مجھے نیک بنا دے
اُستاذ ہوں ، ماں باپ ہوں ، عطّارؔ بھی ہو ساتھ
یُوں حج کو چلیں اور مدینہ بھی دکھا دے
٭…٭…٭