Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
304 - 329
غیبت، چغلی اور حسد 
٭…  کیا آپ کو غیبت، چغلی اور حسد کی تعریف معلوم ہے؟ان رذائل اور ضد، طنز، ہنسی مذاق سے آپ بچتے ہیں یا نہیں؟(1) کسی کے اند ر کوئی خامی یا برائی ہو اسے اس کی پیٹھ پیچھے بیان کرنا غیبت کہلاتا ہے جو کہ گناہِ کبیرہ ہے۔کسی کے لباس کو پیچھے سے بے ڈھنگا، میلا وغیرہ کہا، یاکہا کہ اس کی آواز بے کار ہے یہ سب غیبت میں داخل ہے۔ جبکہ وہ برائی یا خامی یا خرابی اس میں موجود ہو اور اگر نہ ہو تو بہتان ہے جو غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے۔کسی کا حافظہ اچھا ہو یا اچھی آوازمیں نعت پڑھتا ہو توا س کے بارے میں یہ تمنا کرنا کہ اس کا حافظہ کمزور پڑجائے یا اس کی آواز خراب ہو جائے یہ حسد میں داخل ہے۔ حسد کرنا گناہ ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے۔ حسدنیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔ (2)
سچ اور جھوٹ
٭…  کیا آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں ، بلا حاجت شرعی توریہ تو نہیں کر بیٹھتے۔ توریہ یعنی لفظ کے جو ظاہری معنی ہیں وہ غلط ہیں مگر اس نے دوسرے معنی مراد لئے جو صحیح ہیں ۔ ایسا کر نا بلا حاجت جائز نہیں اور حاجت ہو تو جائز ہے۔ توریہ کی مثال یہ ہے کہ آپ نے کسی کو کھانے کیلئے بلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھا لیا اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس وقت کا کھانا کھا لیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھایا ہے۔ یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔(3)
دل آزاری
٭…  سبق سناتے وقت اگر کوئی اسلامی بھائی غلطی کر بیٹھے تو آپ ہنس کر اس کی دل آزاری تو نہیں کر بیٹھتے اگر آپ کبھی ایسی بھول کر بیٹھے تو اپنے اس اسلامی بھائی کو راضی کر لیں رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم



________________________________
1 -    بہارِ شریعت،   حصہ ۱۶ سے غیبت،   چغلی اور حسد کا بیان پڑھ یا سن لیجئے۔
2 -    ابو داود،   ۴ / ۳۶۰،   حدیث :۴۹۰۳
3 -    عالمگیری،   ۵ / ۳۵۲  ملخصاً