Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
30 - 329
اَفعال میں شرک سے مراد
سوال …:  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے اَفعال یعنی کاموں میں شِرک سے کیا مراد ہے؟
جواب …:  جو اَفعال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ خاص ہیں ان میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا ”اَفعال میں شرک“ کہلاتا ہے۔ جیسے نبوت و رسالت عطا فرمانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فعل ہے چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:  اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ)۷۵) (پ ۱۷،الحج: ۷۵)  ترجمۂ کنز الایمان :  اللہ چُن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور آدمیوں میں سے بیشک اللہ  سنتا دیکھتا ہے۔اس لیے کسی اور کو نبوت عطا کرنے والا ماننا اَفعال میں شرک ہے۔
اَحکام میں شرک سے مراد
سوال …:   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے احکام میں شِرک سے کیا مراد ہے؟
جواب …:   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    کے احکام میں کسی دوسرے کو شریک جاننا یا غَیرُ اللہ  کے حکم کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    کے حکم کے برابر قرار دینا” احکام میں شرک “کہلاتاہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ   فرماتاہے:  اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ- (پ۱۲،یوسف: ۴۰)  ترجمۂ کنز الایمان: حکم نہیں مگراللہ کا۔دوسرے مقام پرفرمایا:  وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا)۲۶) (پ ۱۵، الکھف: ۲۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔یاد رکھئے !  رَسُوْلُ ﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی عطا سے ہے اس لیے یہ احکام میں شرک نہیں ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:  قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ (پ۱۰،التوبۃ: ۲۹) ترجمۂ کنز الایمان: لڑو اُن سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کِیا اللہ  اور اُس کے رسول نے۔فرمانِ مصطفٰے (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہے :  اَلَا وَاِنَّ مَا حَـرَّمَ رَسْوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا حَـرَّمَ اللهُ    یعنی خبردار!  جس چیز کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول حرام کردے وہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کی طرف سے حرام کردہ کی طرح حرام ہے۔(1)
  



________________________________
1 -    ابن ماجہ،   کتاب السنۃ،  باب تعظیم حدیث رسول اللہ ۔۔۔الخ،  ۱۵ / ۱،   حدیث۱۲