Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
298 - 329
 میں اپنے بڑے بھائی کو دیکھتا تو بہت کڑھتا کیوں کہ وہ یادِ الٰہی سے غافل دنیا کی رنگینیوں میں مست زندگی گزار رہے تھے، نماز روزوں کی ادائیگی تو دور کی بات وہ تو عید کی نماز پڑھنے کے لئے بھی تیار نہ ہوتے تھے، بلکہ فلموں ، ڈراموں اور گانے باجوں میں ہی دلچسپی رکھتے تھے، میں نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ عظیم مدنی مقصد  ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘  کے تحت بارہا ان کی اصلاح کے لئے انفرادی کوشش کی مگر ان پر میری باتوں کا کوئی خاص اثر نہ ہوا ایک مرتبہ   ہمارے گھر میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان کی کیسٹ   ’’ قبر کی پکار ‘‘  چل رہی تھی، اس دن بڑے بھائی بھی اپنے کمرے میں بیٹھے بیان سن رہے تھے ایک ولیٔ کامل کے درد مندانہ اور پر تاثیر الفاظ ان کے دل پراثر کر گئے، انہوں نے اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور نماز روزوں کا اہتمام شروع کر دیا میں نے ان کے اندر یہ تبدیلی دیکھی توموقع غنیمت جانتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے لئے اپنے ساتھ لے جانے لگا اور یوں آہستہ آہستہ وہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے ، سر پر عمامہ شریف کا تاج، چہرے پر سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی شریف سجالی، سفید مدنی لباس بھی اپنا لیا اور یوں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ایک بیان کی برکت سے دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا سارا گھر مدنی رنگ میں رنگ گیا، تادمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ان کے تین بیٹے حفظ قرآنِ کریم کی سعادت حاصل کر چکے ہیں اور ان میں سے ایک تو یکے بعد دیگرے تین بار12ماہ کے مدنی قافلے میں بھی سفر کرچکے ہیں اور بڑی بیٹی علاقائی سطح پر اسلامی بہنوں کی ذمہ دار ہیں ۔ 
٭…٭…٭
سورۂ دُخان کی فضیلت
شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  مدنی پنج سورہ میں سورۂ دخان کی فضیلت میں نقل فرماتے ہیں:  (1) جو کسی رات میں سورۂ دُخَان پڑھے گا تو صبح ہونے تک ستر ہزار فرشتے اُس کے لیے دُعائے مغفرت کرتے رہیں گے۔ (ترمذی، ۴/ ۴۰۶، حدیث: ۲۸۹۷) (2) جوجمعہ کے دن یا رات میں سورۂ دُخَان پڑھے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ جنت میں اس کے لیے ایک گھر بنائے گا۔ (المعجم الکبیر، ۸/ ۲۶۴، حدیث: ۸۰۲۶)