سنّتوں بھرے اجتماع میں جا پہنچا۔ میں نے پہلی بار اتنے نوجوان سنتوں بھرے لباس میں ملبوس سبز عمامہ سجائے دیکھے تھے۔ ان کی مسکراہٹ و ملاقات کا پیار بھرا انداز میں بھلا نہ سکا پھر جب سنّتوں بھرا بیان سنا اور رِقَّت انگیز دُعا میں شرکت کی تو میرے تاریک دل میں عشقِ رسول کی ایسی شمع روشن ہوئی کہ کچھ ہی عرصہ میں نہ صرف چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی سجالی بلکہ سبز عمامے کا تاج بھی سر پر سج گیا۔ میں سلسلۂ نقشبندیہ میں مرید تھا مزید فیوض و برکات کے حصول کے لیے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلۂ قادریہ رضویہ میں طالب بھی ہوگیا ہوں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی برکتوں کو دنیا بھر میں عام کرے کہ جس نے مجھ سے گنہگار انسان کوعمل کاجذبہ عطافرمایا اور میں اپنے دوست اور اپنے بھائی کے دوست مَدَنی منے کا بہت شکرگزار ہوں جن کی انفرادی کوشش سے میں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا اور میری زندگی اعمالِ صالحہ کے نور سے منور ہو گئی۔
(9) بابِ رحمت کھلا
باب المدینہ (کراچی) کے علاقے کھوکھرا پار ملیر توسیعی کالونیکے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے : مجھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بڑا فضل و کرم تھا کیونکہ مجھے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر تھا اور میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابو بلال محمد الیاس عطّارقادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید بھی تھا یہی وجہ تھی کہ میں نماز روزوں کا پابند ،باعمامہ ،باریش، سفید لباس میں ملبوس، سنّتوں سے نہ صرف محبت کرنے والا بلکہ سنّتیں اپنانے والا معاشرے کا ایک باکردار مسلمان بن چکاتھا۔ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت کیا کرتا تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ فیضانِ سنّت سے درس دینا اور سننا میرے روز مرّہ کے معمولات کا ایک حصہ تھا، علاقے میں کتنے ہی لوگ تھے جومیری انفرادی کوشش سے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنّتوں کی چلتی پھرتی تصویر بن چکے تھے، لیکن اس کے باوجود جب