(8) مَدَنی منے کی دعوت
مرکز الاولیاء (لاہور) کے علاقے نیونیشنل ٹاؤن میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا لُبِّ لُباب ہے کہ میں ایک ورکشاپ میں ملازم تھا۔ ایک روز میری ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی تو اسے دیکھ کر حیرت کے مارے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ میرا وہ دوست جو کل تک نت نئے فیشن کا شوقین اور ٹھٹھہ مسخری کرنے والا تھا، بالکل ہی بدل چکا ہے۔ ان کے سر پر سبز سبز عمامے کا تاج سجا ہوا تھا اور جسم پر سنّت کے مطابق آدھی پنڈلی تک سفید کرتا، چہرے پرایک مُشت داڑھی شریف نے مزید ان کی شخصیت کو نکھار دیا تھا۔ میرے چہرے پر حیرانی کے آثار دیکھ کر انہوں نے اپنی اس تبدیلی کا راز یوں آشکار کیا کہ کچھ عرصہ قبل میری ملاقات ایک ایسے نوجوان سے ہوئی جو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے۔ ان کا انداز کچھ ایسا دل موہ لینے والا تھا کہ میں ان سے وقتاً فوقتاً ملنے لگا۔ اس عاشقِ رسول کی صحبت میں مجھے اصلاح کے پیارے پیارے مدنی پھول ملتے۔ کئی بار انہوں نے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت بھی پیش کی۔ آخر ایک روز مجھے شرکت کی سعادت مل ہی گئی۔ ان دنوں مرکز الاولیاء (لاہور) میں ہفتہ وار اجتماع ہر جمعرات کو جامع مسجد حنفیہ (سوڈیوال ملتان روڈ) میں ہوتا تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اجتماع میں شرکت، مدنی قافلوں میں سفر اور عاشقانِ رسول کی صحبت نے میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا کردیا۔ جسے دیکھ کر آپ حیرت زدہ ہیں ۔ میرا تو آپ کی خدمت میں مدنی مشورہ ہے کہ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کر کے دیکھیں ، کیسی بہاریں نصیب ہوتی ہیں ۔ اس اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں نے نیت تو کی مگر بدقسمتی سے جا نہ سکا۔ میرے چھوٹے بھائی نے دعوتِ اسلامی کے قائم کردہ مدرستہ المدینہ میں قرآنِ پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ ان کو پڑھانے والے استاد صاحب کے عَزَّ وَجَلَّ 2 سالہ بیٹے جو میرے بھائی سے ملاقات کے لیے آتے رہتے تھے۔ وہ جمعرات کو جب کبھی ہمارے گھر آتے تو بڑی اپنائیت سے اجتماع کی دعوت پیش فرماتے۔ میں ٹال مٹول کر دیتا مگروہ جمعرات کو آپہنچتے اور اصرار کرتے۔ آخرکار ایک روز وہ کامیاب ہو ہی گئے اور میں ان کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے