کا مرید ہوگیا، جب سے دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستگی نصیب ہوئی میں نہ صرف نمازوں کا پابند بن گیا بلکہ میرے سب کام سنور گئے۔مدنی ماحول میں آنے سے قبل میں تعلیمی سرگرمیوں میں نہایت کمزور تھا لیکن مدنی ماحول سے کیا وابستہ ہوا تعلیمی میدان میں پوزیشن ہولڈر بن گیا۔ اس وقت میں ایک پرائیویٹ فرم میں ڈپٹی منیجر کے فرائض سرانجام دے رہاہوں اوراپنے دفتری اوقات میں (وقفے کے دوران) اپنے ملازمین اسلامی بھائیوں کوبھی درسِ فیضانِ سنّت دینے کی کوشش کرتاہوں ۔
(7) صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو !
حیدر آباد (سندھ پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی اپنے بچپن کے متعلق کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ عَزَّ وَجَلَّ 2سال کی عمر میں مجھ پر اچھے کام کرنے کا جنون سوار تھا مگر علمِ دین سے دوری کی بنا پر یہ نہ جانتا تھا کہ اچھے کام ہیں کون کون سے۔ حسنِ اتفاق سے میرے ماموں جان نے حفظِ قرآن کی نیت سے اپنے بچوں کے ساتھ مجھے بھی مدرسۃ المدینہ میں داخل کروا دیا۔ یہاں دینی معلومات کا انمول خزانہ، نمازوں کا ذوق اور سنّتوں کی برکتیں حاصل ہوئیں ۔ سر پر سبز عمامے شریف کا تاج سجا تو بدن پر سفید لباس۔یوں سنّتوں بھری زندگی گزارنے لگا۔ بدقسمتی سے گھر والوں اور دوست احباب کی طنزیہ گفتگو کی وجہ سے میرا دل ٹوٹ گیا، ایسے میں شیطان نے اپنا بھر پور وار کیا اور مجھے دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے دور برے دوستوں کی صحبت میں پھینک دیا، ایک عرصہ تک بھٹکتا رہا اپنے نامۂ اعمال کو گناہوں سے سیاہ کرتا رہا۔ ایک دن اچانک اس بات کا احساس ہوا کہ مجھ سے اتنا پیارا نیکیوں بھرا مدنی ماحول کیوں چھوٹ گیا۔ پھر کچھ اسلامی بھائیوں نے بھی انفرادی کوشش کی۔ یوں میں دوبارہ مدرسۃ المدینہ میں داخل ہوگیا اور دل جمعی سے قرآن پاک حفظ کرنے میں مشغول ہوگیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ حفظ مکمل کرنے کے بعد ایک عر صے تک مدرسۃ المدینہ میں مدرس کے فرائض سرانجام دینے کی سعادت حاصل کی اور تادمِ تحریر مدرسۃ المدینہ میں ناظم کے منصب پر فائز ہوں اور ایک حلقے کا ذمہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ امامت کی بھی سعادت حاصل کررہا ہوں ۔