ہر سو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادتِ با سعادت کے چرچے ہو رہے تھے، گلی کوچوں کو سجایا جارہا تھا، گھروں میں چراغاں کا اہتمام ہو رہا تھا، جگہ جگہ محافل ذکر و نعت منعقد ہو رہی تھیں ، مگر میرے مدرسے والے تھے کہ نہ وہاں در و دیوار کو سجایا گیا نہ کسی قسم کے چراغاں کا اہتمام ہوا، مزید یہ کہ جب بارہ ربیع الاول کے مبارک دن انہوں نے بچوں کو میلاد کے جلوس میں شریک ہونے سے روکنے کے لیے چھٹی نہ دی تو میرے والد محترم کو تشویش ہوئی کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو نہ تو خود سرکارِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے یومِ ولادت کی خوشی مناتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو منانے دیتے ہیں ۔ لہٰذا فوراً مجھے اس ادارے سے نکال کر میلاد شریف منانے والے عاشقانِ رسول کے ادارے یعنی مدرسۃ المدینہ میں داخل کروا دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مدرسۃ المدینہ میں ہونے والی اخلاقی تربیت کی برکت سے میری زندگی میں بہار آگئی اور میں سنتوں کا شیدائی بن گیا۔ تادمِ تحریر تنظیمی ترکیب سے ذیلی مشاورت کے خادم کی حیثیت سے دینِ متین کی خدمت میں مصروفِ عمل ہوں ۔
(6) کم سِن مُبلِّغ
لانڈھی (باب المدینہ کراچی) میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کاخلاصہ ہے: یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں چوتھی جماعت کاطالب علم تھا۔ہماری کلاس میں ایک طالب علم ایسابھی تھاجوفارغ اوقات میں ہمیں اچھی اچھی باتیں بتاتااوران پرعمل کی ترغیب بھی دلاتاتھا۔ ایک روزمیں نے اس سے پوچھا: آپ یہ پیاری پیاری باتیں کہاں سے سیکھتے ہیں ؟ اِس پر اُس کم سن مبلغ نے بتایا کہ میں اپنے علاقے کی مسجدمیں نمازپڑھنے جاتا ہوں ، وہاں ہرروز نمازِ مغرب کے بعد ’’ فیضانِ سنّت ‘‘ کا درس ہوتا ہے ، میں اسے بغور سنتا ہوں اور یہ پیاری پیاری باتیں وہیں سے سیکھتا ہوں ۔یہ جواب سن کرمیں بیحد متاثر ہوا اور میں نے بھی اپنے محلے کی مسجد میں جانا شروع کردیا، مغرب کی نمازکے بعدوہاں بھی درسِ فیضانِ سنّت ہوتا تھا، میں اس میں باقاعدگی سے شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ َسنّتوں بھرے درس کی برکت سے میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہو گیا اور میں مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ